i بین اقوامی

دنیا میں تیل بحران شدت اختیار کر گیا‘ ترقی یافتہ ممالک نے اسٹریٹیجک آئل ذخائر کا استعمال شروع کردیاتازترین

March 24, 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل اور گیس کی رسد شدید متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک بالخصوص ترقی یافتہ ممالک نے معاشی بحران سے بچنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک آئل ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی طور پر 40 کروڑ بیرل تیل ذخائر سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تاریخ کی سب سے بڑی مشترکہ ریلیز قرار دی جا رہی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق آئی ای اے کے رکن ممالک کے پاس مجموعی طور پر 1.2 ارب بیرل کے سرکاری جبکہ تقریبا 60 کروڑ بیرل نجی مگر حکومتی نگرانی میں ذخائر موجود ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چین آئی ای اے کا رکن ملک نہیں ہے مگر دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ رکھنے والا ملک سمجھا جاتا ہے۔چین کے سرکاری اعداد و شمار خفیہ ہیں تاہم توانائی تجزیاتی اداروں کے مطابق 2025 کے آخر تک چین کے ذخائر تقریبا 1.13 ارب بیرل تک پہنچ گئے تھے، ذخائر زیادہ تر مشرقی ساحلی علاقوں میں موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس تقریبا 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل اسٹریٹجک تیل موجود ہے۔ امریکا اس سال 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔جاپان کے پاس تقریبا 47 کروڑ بیرل ہنگامی ذخائر موجود ہیں جو ملک کی 254 دن کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔جاپان نے بحران کے بعد 8 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔برطانیہ کے پاس تقریبا 6 کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر موجود ہیں جو تقریبا 90 دن کے لیے کافی ہیں۔برطانیہ آئی ای اے منصوبے کے تحت 1 کروڑ 35 لاکھ بیرل جاری کرے گا۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کے پاس تقریبا 17 کروڑ 70 لاکھ بیرل (خام تیل اور مصنوعات) موجود ہیں۔فرانس کے پاس تقریبا 12 کروڑ بیرل ذخائر ہیں جن میں خام تیل، ڈیزل اور جیٹ فیول شامل ہے۔اسپین کے پاس کل ذخائر تقریبا 15 کروڑ بیرل تیل موجود ہے جس میں سے بحران کے پیشِ نظر 1 کروڑ 15 لاکھ بیرل تیل جاری کیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اٹلی کے پاس تقریبا 7 کروڑ 60 لاکھ بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں جو 90 دن کی درآمدات کے برابر ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی