i بین اقوامی

مشرق وسطی جنگ میں شدت جاری،ایران نے آپریشن وعدہ صادق کی87ویں لہر داغ دی ،11اسرائیلی زخمیتازترین

March 31, 2026

امریکہ ،اسرائیل کی ایران کیخلاف جنگ روکنے کیلئے سفارتی کوششوں کے باوجود اس میںشدت آرہی ہے ،ایران نے اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے آپریشن وعدہ صادق کی87ویں لہر داغ دی جس میں11اسرائیلی زخمی ہوگئے ،ایرانی فوج نے اصفہان کے قریب 30 ملین ڈالر مالیت کا ریپر ڈرون مار گرانے کا دعوی کیا ہے جبکہ امریکی و اسرائیلی فوج نے تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریبا 40 اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز پر حملے کیے ہیں،ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکوں سے کچھ علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی، اصفہان میں 2 ہزار پانڈ وزنی بم سے اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، شدید دھماکوں کی ویڈیو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے بھی شیئر کردی۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ایران نے مختلف علاقوں میں دشمن کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور امریکی و صیہونی فوجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، حیفا میں آئل ریفائنری پر حملہ کیا، شعلے آسمان کو چھوتے رہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب، بنی براک اور پیتاح تکوا سمیت مختلف علاقوں میں میزائل گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے منگل کی صبح داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں 11 افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی میڈیا کہنا ہے کہ گش دان کے علاقے میں 6 اور بنی براک میں 3 افراد زخمی ہوئے جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ادھر خطے میں امریکی تنصیبات بھی ایران کے نشانے پر رہیں، سعودی عرب کے قریب پرو جیکٹائل سے بحری جہاز پر حملہ کیا، سعودیہ میں امریکی وارننگ سسٹم کو بھی تباہ کردیا، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈرز کے ٹھکانے پر حملے کئے۔شارجہ میں ٹیلی کام کمپنی کی عمارت پر ایران نے ڈرون حملہ کیا، حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کویتی حکام کا کہنا ہے دبئی پورٹ پر ایرانی حملے میں بڑے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔حملے کے بعد متاثرہ آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ترکیہ کا ایک اور میزائل حملہ ناکام بنانے کا دعوی کیا گیا۔ادھر دبئی پورٹ پر کویتی آئل ٹینکر السلمی کو لنگر انداز ہونے کے دوران ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کویت پیٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی) نے اعلان کیا کہ السلمی، ایک بہت بڑے خام مال بردار جہاز پر منگل 31 مارچ 2026 کی صبح حملہ کیا گیا۔دبئی کے قریب پانی میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کویتی کروڈ ٹینکر السلمی پر سوار عملے کے تمام 24 ارکان کے محفوظ ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

ایک بیان میں کے پی سی نے تصدیق کی کہ حملے کے وقت ٹینکر مکمل طور پر لدا ہوا تھا۔کے پی سی نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں بحری جہاز کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور جہاز میں آگ لگ گئی ہے جبکہ ارد گرد کے پانیوں میں ممکنہ تیل پھیل گیا ہے۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایم کیو نائن ریپر ڈرون مار گرایا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ایران نے اب تک 146 ڈرون مار گرائے ہیں، ایم کیو نائن ریپر ڈرون نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی مالیت تقریبا 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے 24 گھنٹوں کے دوران 11 میزائل اور 27 ڈرون روکنے کا دعوی کیا ہے۔وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک وہ 1941 ڈرونز اور 440 میزائلوں سے نمٹ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں مزید بتایا گیا کہ اب تک ہوئے حملوں میں 178 افراد زخمی اور آٹھ جا ںبحق ہوئے ۔ بحرین کی دفاعی فورس نے کہا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے آٹھ میزائل اور سات ڈرون روکے اور اب تک وہ 182 میزائل اور 398 ڈرون روک چکی ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران ان پڑوسی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں امریکا کی موجودگی ہے۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے 30 دنوں میں خلیجی ممالک پر 5 ہزار 200 سے زائد حملے کیے۔

عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران سعودی دفاعی نظام نے 57 میزائلوں اور ایک ہزار 6 ڈرونز کو مار گرایا۔کویت پر ایران نے 309 بلسٹک میزائلوں اور 616 ڈرونز سے حملے کیے۔ اس کے علاوہ قطر پر ایران نے 206 میزائلوں، 90 ڈرونزاور 2 جنگی طیاروں سے حملے کیے۔بحرین نے ایک ماہ میں ایران کے 174 میزائل اور 391 ڈرون مار گرائے۔ ایران نے یو اے ای پر 413 میزائلوں اور1 ہزار 914 ڈرونز سے حملے کیے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سلطنت عمان میں بھی ایران نے 19 ڈرون حملے کیے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تہران میں میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ تقریبا 40 اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز پر حملے کیے ہیں۔ادھر اصفہان میں شدید دھماکوں کی ویڈیو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے بھی شیئر کردی۔اس حوالے سے امریکی اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 2 ہزار پانڈ وزنی بم سے اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ایک امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اصفہان میں 2000 کلوگرام وزنی بنکر بسٹر بم کا استعمال کیا گیا اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے والے گولہ بارود کا استعمال بھی کیا گیا۔

اصفہان پر بمباری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی سب سے خطرناک بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق دھماکوں سے مشرقی تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی، بجلی کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔ اس دوران پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ اسرائیل نئے ریجینل آرڈر کے لیے تیار ہوجائے۔اپنے بیان میں جنرل اسماعیل قانی نے کہا کہ نیتن یاہو خواب دیکھ رہا تھا کہ خطے میں سکیورٹی بیلٹ کو وسعت دی جائے گی مگر لبنان کی حزب اللہ نے شمال اور یمن کی انصار اللہ نے جنوب سے آگ برسا کر یہودی آبادکاروں کو دیا گیا تحفظ کا جھوٹا وعدہ آشکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا شہید کمانڈروں کی امنگیں پوری ہوگئیں اور محاذ اب ایک بن چکا ہے اس لیے اسرائیلی دشمن کو اب اس نئے علاقائی نظام کیلئے تیار ہوجانا چاہیے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی