مشرقِ وسطی میں کشیدگی مزید اضافہ ہوگیا ،امریکی بحری بیڑہ ابراہم لنکن مشرقِ وسطی پہنچ گیا ۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ مشرقِ وسطی میں کئی روز تک جاری رہنے والی فوجی مشقیں کرے گی،جس سے خطے میں پہلے سے موجود تنا میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے غیرملکی ایئرلائنزکو ہنگامی خط جاری کر دیا ہے،خط میں خبردار کیا گیا ہیکہ اگر فضائی حدود بند کی جاتی ہیں تو غیرملکی ایئرلائنز فوری طور پر متبادل انتظامات کے لئے تیار رہیں۔ تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر کام کرنے والی غیر ملکی ایئر لائنز کو اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس ہفتے کے اختتام سے شروع ہونے والے حساس سکیورٹی دورانیے سے متعلق خبردار کر دیا ہے۔ یہ انتباہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سربراہ شموئیل زکائی نے ایئر لائنز کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ ہفتے کے اختتام کی تعطیلات سے قبل ہم ایک حساس سیکیورٹی دورانیے میں داخل ہو رہے ہیں۔
شموئیل زکائی کا کہنا تھا کہ اتھارٹی نے اسرائیلی فضائی حدود کی ممکنہ بندش سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا ہے اور یہ منصوبہ پہلے جون 2024 اور 2025 میں بھی نافذ کیا جا چکا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ روانہ ہونے والی غیر ملکی پروازوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ان کے محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے گزشتہ روز اطلاع دی کہ مشرق وسطی میں امریکی فوجی تعیناتی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جو جون کے مہینے میں ایران کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق عسکری ادارے خطے میں امریکی افواج کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا تجزیہ کر رہے ہیں، جو ایران میں حکومت کے تختہ الٹنے یا تہران پر دبائو ڈال کر سابق صدر اوباما کے معاہدے سے بہتر معاہدہ حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا پلیٹ فارم ہو سکتی ہے۔امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس تہران کے حوالے سے تمام اختیارات موجود ہیں، جن میں فوری اور فیصلہ کن حملے شامل ہیں۔ ادھر فرانس نے غیر یقینی صورتحال کے باعث مشرق وسطی کے لیے تمام فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دئیے ہیںامریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی
کشیدگی کے اثرات عالمی فضائی آپریشن پر نمایاں طور پر مرتب ہونے لگے ہیں، جس کے باعث متعدد ممالک نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مشرق وسطی اور دیگر حساس مقامات کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث مشرق وسطی کے لیے تمام فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔متحدہ عرب امارات میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد نیدرلینڈز نے بھی متحدہ عرب امارات کے لیے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔ ادھر برطانوی ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے فضائی آپریشن عارضی طور پر بند کر دیا ہے، جبکہ کینیڈا نے پہلے ہی تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔امریکی حکام نے بھی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسرائیل جانے والی پروازوں میں احتیاطی تبدیلیاں کی ہیں۔اسی تناظر میں جرمنی نے بھی ایران کے لیے فضائی سروس معطل کر دی ہے، جس کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کی گئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی