افغانستان میں طالبان حکومت پر ایک بارپھر بین الاقوامی امدادی رقوم اور سامان میں بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان حکام نے ضرورت مند عوام کیلئے آنے والی امداد کا بڑا حصہ خود ہڑپ کر لیا، جبکہ عام شہری بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔افغان جریدے ہشت صبح کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کندز میں طالبان حکام نے مستحقین کیلئے مختص امدادی سامان کا تقریبا نصف حصہ اپنے قبضے میں لے لیا، یہ امدادی پیکجز سعودی کنگ سلمان ہیومینی ٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سامان کا بڑا حصہ طالبان حکام نے خود رکھ لیا، جبکہ ضرورت مند افراد کو مکمل امداد فراہم نہیں کی گئی، طالبان حکومت نے عوام کی بنیادی ضروریات اور غذائی قلت کو نظر انداز کیا ہے۔طالبان کی جانب سے امدادی سامان میں مبینہ لوٹ مار پر عالمی اور مقامی سطح پر پہلے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے، امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سیگار)کی متعدد رپورٹس میں امداد کی تقسیم میں کرپشن اور مداخلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی