ایران کے دارلحکومت تہران میں ایک مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا جن میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں سرگرم حمید رضا رجب زادہ کو چند روز قبل مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے قتل کی ویڈیو ان کے اہل خانہ کو بھیجی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران چار مردوں اور ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک نیوز ویب سائٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ گرفتار افراد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال فرار ہے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی ہے۔ تاہم بعد میں مہر نیوز ایجنسی نے سعید منتظرالمہدی کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس سے قبل سخت گیر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپوزیشن گروہوں اور مبینہ امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں پر اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔فارس نیوز کے مطابق رجب زادہ تقریبا 15 روز قبل لاپتا ہوئے تھے۔ چار روز قبل ایک نئے قائم کیے گئے حکومت مخالف ٹیلی گرام چینل پر ان کے زخمی جسم کی ایک ویڈیو جاری کی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔فارس نیوز نے بتایا کہ اوپن سورس انٹیلی جنس کے تجزیے کے مطابق اس چینل کی جانب سے ماضی میں کیے گئے متعدد دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تھے اور بظاہر ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ چینل نے جلاوطن ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق آرگنائزیشن کی سرگرمیوں سے متعلق پرانی ویڈیوز بھی مبینہ طور پر اپنے مواد کے طور پر شائع کی تھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی