وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، ایگزیکٹیو بورڈ سے منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے، مشرقِ وسطی کا بحران حالیہ تاریخ کے بڑے ترین سپلائی شاکس میں سے ایک ہے، ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دبائو کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے ان کی سرمایہ کاری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاسوں کے موقع پر باروررز پلیٹ فارم کے اجرا کی تقریب میں شرکت کے موقع پر وفاقی وز محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں ترقی پذیر ممالک شدید قرضہ جاتی دبائو کا شکار ہیں جہاں بلند شرح سود اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کے باعث ان کی ترقی اور پائیدار نمو کے لیے سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اگرچہ داخلی اصلاحات نہایت اہم ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے تاہم عالمی مالیاتی نظام میں موجود ساختی رکاوٹیں قرض لینے والے ممالک کے لیے دستیاب پالیسی گنجائش کو محدود کر رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ باروررز پلیٹ فارم ایک دیرینہ خلا کو پر کرتا ہے، کیونکہ قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی مخصوص فورم موجود نہیں تھا جہاں وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کر سکیں، ابھرتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کر سکیں اور اپنے اجتماعی موقف میں ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم کسی مذاکراتی بلاک کے طور پر نہیں بلکہ ایک رضاکارانہ رکن ممالک کی زیرِ قیادت اقدام ہے جس کا مقصد باہمی سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور عالمی مالیاتی مباحث میں قرض لینے والے ممالک کی آواز کو موثر بنانا ہے۔وزیر خزانہ نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی وکالت کو سراہا، مصر کی قیادت کی تعریف کی اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (ہو این سی ٹی اے ڈی) کی معاونت کا اعتراف کیا۔
انہوں نے پلیٹ فارم کے عبوری چیئرمین کے طور پر مصر کے اعلان کا بھی ذکر کیا۔ واشنگٹن میں سِٹی میکرو فورم سے خطاب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرقِ وسطی کا بحران حالیہ تاریخ کے بڑے ترین سپلائی شاکس میں سے ایک ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ موجودہ بحران سے حاصل ہونے والا سبق پیٹرولیم ذخائر کی تعمیر ہے، قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سعودی عرب کی مالی معاونت پر گہری قدر دانی کا اظہار کیا اور پاکستان کے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کے اجرا کی تصدیق کی۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ حجم میں اضافہ ہوا ہے، لیڈ منیجرز کے انتخاب کے لیے ریکویسٹ فار پروپوزلز 3 شعبوں میں جاری کی جا رہی ہیں، جن میں یورو بانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں سیٹل ہونے والا روپے سے منسلک بانڈ شامل ہے، پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کا ہدف مئی مقرر کیا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی