درآمدی اور برآمدی مال کی غیر ضروری تاخیر اور کارگوز کلیئر نہ کرنے پر نئے قواعد متعارف کرا دئیے گئے جس کے بعد اب امپورٹرز اور ایکسپورٹرز پر غیر ضروری تاخیر اور کارگوز کلیئر نہ کرنے پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔میڈیارپورٹ کے مطابق ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ کسٹمز رولز 2001 میں نئی شق اوور اسٹے کارگو منیجمنٹ رولز 2026 شامل کیے گئے ہیں۔ جس کے تحت کسٹمز اسٹیشن پر سامان پہنچنے کے بعد گڈز ڈکلیریشن مقررہ مدت میں جمع نہ کرنے پر جرمانہ ہوگا۔پہلے 20 دن کے بعد گڈز ڈکلیریشن نہ دینے پر یومیہ 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ بعد میں ہر اضافی دن کیلیے جرمانہ بڑھا کر روزانہ 50 ہزار روپے تک کر دیا جائے گا۔اس کے علاوہ جہاز کی برتھنگ سے قبل گڈز ڈکلیریشن جمع کرانے اور سامان نہ اٹھانے پر بھی جرمانہ ہوگا۔ اسسمنٹ، جہاز کی برتھنگ مکمل ہونے کے بعد سامان نہ اٹھانے پر یومیہ 15 ہزار جرمانہ ہوگا۔ اس کے بعد ہر دن کیلیے جرمانہ بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا جائے گا۔ترجمان ایف بی آر کے مطابق درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کیلیے ہر کیس میں بھی زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے ہوگا۔ بندرگاہ میں داخل ہونے کے بعد برآمدی مال کو متعلقہ شپمنٹ میں 15 دن کے اندر لوڈ کرنا ہوگا۔سامان مقررہ مدت میں لوڈ نہ کیا گیا تو اگلے 5 دن کیلئے روزانہ 5 ہزار روپے اور اس کے بعد یومیہ جرمانہ بڑھا کر 15 ہزار روپے تک عائد کیا جا سکے گا۔ نئے اوور اسٹے کارگو منیجمنٹ رولز کے تحت جرمانوں کے لئے کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی