i پاکستان

درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خرابیوں کی نشاندہی،پاور ڈویژن کی نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاریتازترین

August 25, 2026

پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں خرابیوں کی نشاند ہی کرتے ہوئے نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں ، نئی گائیڈ لائنز کے تحت خریداری سے پہلے مرحلے میں 380 ملین روپے سالانہ کی بچت ہوگی۔رپورٹ کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری کی زیرصدارت کوئلے کی خریداری سے متعلق متعدد اجلاس ہوئے، کوئلے کی خریداری کا اصل ڈیٹا، جس میں کنٹریکٹس اور مارکیٹ میں رائج طریقہ کار کاجائزہ لیا گیا۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ حکومت درآمدی کوئلے کی خریداری کے شعبے میں اصلاحات کا عمل شروع کر رہی ہے، کوئلے کی درآمد اور ترسیل کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، کوئلے کی خریداری کے لئے بہترین دستیاب رعایت کا اصول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔پاور ڈویژن کے مطابق کول پاور پلانٹس کو کم ڈسکانٹ دینے والے عالمی سپلائر سے کوئلہ خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس سے قبل مختلف پاور پلانٹس ایک ہی کول سپلائر سے مختلف رعایتیں حاصل کرتے رہے، کوئلے کی خریداری پر مختلف پاور پلانٹس کو 25 سینٹ سے 7.12 ڈالر فی ٹن تک مختلف رعایتیں ملیں

ایک ہی سپلائر نے مختلف پاور پلانٹس کو کوئلے پر مختلف رعایتیں دیں، بعض بیک اپ سپلائی معاہدوں میں مرکزی سپلائی معاہدوں سے زیادہ رعایت حاصل کی گئیں۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ کول پاور پلانٹس نے معاہدے کے باوجود زیادہ رعایت دینے والے سپلائر سے کوئلہ نہیں خریدا، کوئلے کی خریداری کی اضافی لاگت براہِ راست بجلی صارفین پر منتقل ہو رہی تھی۔اس حوالے سے وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن ڈیٹا اور مارکیٹ کے تجزیے کے ذریعے خامیوں کی نشاندہی کر رہا ہے، خامیوں کو موثر ریگولیٹری اور پالیسی اقدامات کے ذریعے دور کیا جا رہا ہے۔اویس لغاری کا کہنا ہے کہ اصلاحاتی اقدامات سے ہونے والی بچت کا براہِ راست فائدہ بجلی صارفین تک پہنچایا جائے گا، کوئلے کی خریداری میں مداخلت کا مقصد تجارتی معاملات میں دخل اندازی نہیں، بجلی کی پیداوار کیلئے ایندھن کی لاگت بجلی صارفین سے وصول کی جاتی ہے، ایندھن کی خریداری موثر اور شفاف ہونی چاہیے، پاور ڈویژن کا مقصد غیر ضروری اخراجات ختم کرکے بجلی صارفین کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی