حکومت پاکستان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر اڈیالہ جیل میں دوران قید مبینہ ذہنی و جسمانی تشدد، تنہائی اور علاج کی فراہمی میں غفلت سے متعلق ان کے اہلخانہ اور پارٹی رہنمائوں کی جانب سے عائد تمام الزامات کو مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے کے سوال کے تحریری جواب میں وزارت اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ عمران خان کو کسی حکومتی حکم کے تحت نہیں بلکہ عدالتی طریقہ کار اور فیصلوں کے نتیجے میں بحیثیت سزا یافتہ قیدی رکھا گیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے عمران خان کو الگ تھلگ رکھنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اگست 2023 میں قید کے بعد سے اب تک عمران خان سے ان کے اہلخانہ، وکلا، ڈاکٹروں اور سیاسی رہنمائوں کی 900 سے زائد ملاقاتیں کروائی جا چکی ہیں۔حکومتی بیان کے مطابق سابق وزیراعظم کو اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات اور ملک و بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں سے فون اور واٹس ایپ پر بات کرنے کی اجازت ہے۔
21 مارچ کو ان کی اپنے بیٹے سے ٹیلی فون پر بات کروائی گئی جبکہ 18 اور 19 اگست کو ان کی بہنوں نے جیل میں ان سے ملاقات کی۔عمران خان کو 7 سیلز پر مشتمل ایک علیحدہ کمپانڈ میں رکھا گیا ہے جہاں سونے، واش روم اور ورزش کی تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ انہیں ان کی پسند کے مطابق دیسی مرغی، گوشت، پھل، دودھ، ڈرائی فروٹس اور ڈبہ بند پانی پر مشتمل خصوصی کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔جیل ڈاکٹر کے علاوہ پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الستار آئی ہسپتال کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈز اب تک عمران خان کا 30 کے قریب معائنہ کر چکے ہیں۔حکومت نے عظمی خان کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود میڈیا کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 120/80 ہے، ان کی آنکھ کا علاج مکمل ہو چکا ہے اور وہ 100 فیصد فٹ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قید کی سہولیات کو سیاسی پیغامات کی ترسیل کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی