i پاکستان

حکومت زرعی انکم ٹیکس پر آئی ایم ایف کو منانے کیلئے کوشاں،، اہداف پورے نہ ہونے پر متبادل پلان تیارتازترین

August 19, 2026

حکومت کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کے معاملے پر آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کیلئے کوششیں تیز کردی گئیں، صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کے اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں متبادل پلان تیار کیا جا رہا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے گوشوارے جمع کرانے کیلئے 30 ستمبر تک انتظار کیا جائے گا، اس دوران زرعی انکم ٹیکس اور گوشواروں کی وصولی کا مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے کی صورت میں متبادل حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی رضامندی کی صورت میں صوبوں سے زرعی انکم ٹیکس کے لیے فکسڈ سکیم پر بات چیت کی جائے گی، اس سلسلے میں زرعی شعبے کے لئے فی ایکڑ 5 ہزار روپے تک انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تاجروں کی طرز پر کاشت کاروں اور زمینداروں کیلئے بھی اکتوبر میں فکس ٹیکس سکیم متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں مسلسل تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر مقررہ اہداف کے حصول کے لئے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے حتمی فیصلہ صوبوں سے موصول ہونے والے گوشواروں اور وصولی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی