امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھرنے پرامن طریقے سے جاری رہیں گے، شہریوں سے بھی اپیل ہے ان دھرنوں میں آئیں اور بتائیں کہ یہ لیوی بھتہ قبول نہیں ہے۔ پیٹرولیم لیوی کیخلاف جماعت اسلامی کے دھرنے پیر کو دوسرے روز بھی جاری رہے۔لاہور میں وزیر اعلی ہائو س جبکہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں گورنر ہائو سز کے باہر دھرنوں میں کارکنان دوسرے روز بھی موجود ہیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم نے لاہور میں دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھرنے پرامن طریقے سے جاری رہیں گے، شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ ان دھرنوں میں آئیں اور بتائیں کہ یہ لیوی بھتہ قبول نہیں ہے۔ حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی 25 کروڑ لوگوں کا مقدمہ لڑرہی ہے، جنگ کے دوران بہانہ بنا کر پٹرول کی قیمتیں بڑھائی گئیں، یہ کہتے ہیں آئی ایم ایف کی وجہ سے قیمتیں بڑھائیں، حکمران آئی ایم ایف کے غلام بن چکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرول 225 روپے فی لیٹر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بریفنگ کے لئے کمیٹی بنائی ہے، ہم کمیٹی کو دعوت دیتے ہیں وہ لاہور میں آئیں ہم میزبانی کریں گے، یہ دھرنا کسی پارٹی یا کسی کی ذات کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے ہے۔ حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی ہو رہی ہے، بجلی کے بل میں طرح طرح کے ٹیکسز رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز 1994 سے ملک میں بجلی کے ذمہ دار ہیں ، بجلی کے پلانٹس کی کپیسیٹی میں بھی غلط کام کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کپسیٹی پیمنٹس کا بوجھ بھی صارفین اٹھاتے ہیں، قرض پر سود بھی عوام ادا کریں تو ریلیف کہاں ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب صحیح عدالتی نظام آئے گا ، یہ جعلی قسم کے سیٹ اپ ختم ہونگے تو ان کا فرانزک آڈٹ بھی ہو گا ، ان کا ٹرائل بھی ہو گا کہ انہوں نے لوگوں کیساتھ فراڈ کیا کیا ہے، بجلی کی پیداواری استعداد میں دو نمبری کی گئی۔دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے، مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں سے ہٹانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی