i پاکستان

کنیکٹیویٹی کے نام پر عوام کا استحصال نہیں کیا جاسکتا،ٹیلی کام بل 2026 پر کھلی عوامی سماعت ہونی چاہئیے،سینیٹرپلوشہ خانتازترین

June 20, 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چیئر پرسن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ کنیکٹیویٹی کے نام پر عوام کا استحصال نہیں کیا جاسکتا، ماہرین کی رائے کے بغیر ٹیلی کام بل 2026 بل کی منظوری ممکن نہیں، میں اس بل پر کھلی عوامی سماعت کرانا چاہتی ہوں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ترمیمی بل پیش کیا گیا۔بل کی شقوں پر کمیٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہو کر یہ بل سینیٹ تک کیسے پہنچ گیا۔ سینیٹر پلوشہ خان نے اپنے تحفظات کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے بل کی شقیں پڑھیں تو ہمارا تاثر یہ تھا کہ یہ صرف فائبرائزیشن کیلئے ہے لیکن یہ اس سے بالکل مختلف نوعیت کا بل نکلا۔اس بل میں عوام کے حقِ ملکیت پر سنگین ضرب لگتی محسوس ہوئی، میں نے اس بل پر مزید غور کے لئے توسیع مانگی تھی اور مجھے 45 دن کی مہلت مل گئی ہے۔اگر وزارت خود بھی اسے ناقص بل سمجھتی ہے تو بہتر ہے کہ اسے واپس لے لے۔ اگر یہ بل میری کمیٹی میں ہی رہا تو موجودہ شکل میں میری جماعت اسے ہرگز منظور نہیں کر سکتی۔میری جماعت کو اس بل پر سنجیدہ تحفظات ہیں، یہ بل قومی اسمبلی سے ضرور منظور ہو کر آیا ہے، لیکن اگر وہاں کسی سے کوئی چیز نظرانداز ہوئی ہے تو سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اسلئے اسے اس شکل میں منظور نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس بل کو رکوانے میں کردار ادا کیا۔اگر یہ بل میری کمیٹی میں رہا تو میں اس پر عوامی سماعت کرانا چاہوں گی۔ اس بل کے مطابق نجی ہائو سنگ سوسائٹیوں اور دیگر نجی مقامات کے حقوق تقریبا ختم ہو جاتے ہیں۔ یعنی میرے گھر کے گیٹ سے باہر کا علاقہ پبلک اسپیس تصور کیا جائے گا۔ وہاں متعلقہ ادارے کھمبے نصب کر سکتے ہیں یا دیگر تنصیبات لگا سکتے ہیں۔فائبرائزیشن کے نام پر ٹیلی کام کمپنیوں کو لوگوں کے گھروں تک غیر محدود رسائی نہیں دی جا سکتی۔ فائبرائزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی لائن میرے گھر کے اندر سے گزرے اور میں کچھ بھی نہ کر سکوں۔میرے گھر میں توڑ پھوڑ ہو جائے یا میری نجی ملکیت متاثر ہو اور مجھے اعتراض کا حق بھی نہ ہو، ایسے حالات میں 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی شق ضرورت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ آئین سے متصادم کوئی قانون قابل قبول نہیں ہوسکتا۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اس بل کو موجودہ شکل میں منظور نہیں کیا جا سکتا۔ اس بل پر صرف صنعت ہی نہیں بلکہ تمام متعلقہ فریقین سے بھی رائے لی جائے گی۔تمام آرا حاصل کرنے کے بعد بل کا مکمل جائزہ لیا جائے گا اور ضروری تبدیلیوں کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی