i پاکستان

کوٹلی ، تھانہ سرساوہ پولیس نے 24سالہ یتیم نوجوان کی زندگی کے خاتمے کی ساز ش میں ملوث بااثر ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیاتازترین

March 10, 2026

تھانہ سرساوہ پولیس نے علاقہ چک میر چھتراں میں 24سالہ یتیم نوجوان کی زندگی کے خاتمے کی سازش کرنے والے بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، عدنان نامی نوجوان کو ملزمان عمار شاہ اور اویس شاہ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لئے دبائو ڈالنے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اسے معاشرے میں رسوا کیا جس پر عدنان نے چار ماہ قبل خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا،ملزم عمار شاہ نے متوفی کی بیوی سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا،متوفی کی والدہ نے مقدمہ کے اندراج کے لئے ایس ایس پی کوٹلی کو تحریری درخواست دی جس کی روشنی میں پولیس نے ایک طویل انکوائری کی اور ملزمان عمار شاہ اور اویس شاہ سمیت متوفی کی اہلیہ( الف ۔ک) کے خلاف مقدمہ نمبر 18/26 زیر دفعہ 506,504,109اور ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ 31 درج کرلیا ہے۔

تھانہ سرساوہ میں چار مارچ 2026کو متوفی عدنان احمد کی والدہ زیبن بی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق سائلہ کے حقیقی بیٹے عدنان عارف نے عرصہ 10/11 سال قبلمسماةالف ۔ک سے شادی کی جس سے اس کے 01 بیٹی اور ایک بیٹا ہے، شادی کے کچھ عرصہ بعدعمار شاہ ولد نزاکت حسین شاہ نے خفیہ طور پر میری بہو سے ناجائز تعلقات قائم کئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے میری بہو کو اکسانا شروع کر دیا کہ وہ اپنے خاوند سے خلع لے تاکہ وہ اس سے شادی کر سکے، مذکور کے اکسانے پر میری بہو نے گھر میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیے اور خلع کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا اور میری بہو آئے روز میرے بیٹے عدنان کو دھمکیاں دیتی کہ اگر تم مجھے طلاق نہیں دو گے تو عمار شاہ اور اس کے بھائی اویس شاہ کو کہہ کر تمھیں قتل کروا دوں گی جس پر عدنان اسے مسلسل سمجھاتا رہا کہ کہ وہ غیر مرد سے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے باز آجائے اور معاشرے میں میری عزت کو پامال نہ کرے دوسری جانب عمار شاہ باز نہ آیا اور وہ میرے بیٹے کو بیوی کو طلاق دینے سمیت اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا رہا اور عمار شاہ نے اپنے بڑے بھائی اویس شاہ کی معاونت سے میری بہو کو مکمل ٹریپ کر لیا جس پروہ گھر میںہر وقت مذکوران کا حوالہ دے کر میرے بیٹے کو دھمکاتی، کچھ عرصہ بعدعمار شاہ سعودی عرب چلا گیا

تاہم وہ سعودی عرب جا کر بھی باز نہ آیا اور اس نے میری بہو سے مسلسل رابطہ رکھا اور اسے اپنے خاوند سے طلاق لینے کے لئے اکساتارہا ، اس دوران عمار شاہ سعودی عرب سے عدنان کو دھمکی آمیز کالز کرتا رہا کہ اگر وہ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے گا تو پہلے اسے معاشرے میں رسوا کیا جائے گا بعد میں اسے قتل کروا دیا جائے گا،عمارشاہ نے بیرون ملک سے میری بہو کو پیسے بھیج کر اسے کہا کہ وہ اپنے خاوند پر لڑائی جھگڑوں اور تشدد کر نے کا ا لزام لگا کر خلع کے لئے عدالت سے رجوع کرے جتنا خرچہ آئے گا وہ اسے بھیجے گا ،اسی دوران میری بہو کی ملی بھگت سے عمار شاہ اور اویس شاہ نے بیرون ملک سے بیٹھ کر میرے بیٹے عدنان کو معاشرے میں رسوا کرنے اور اس کی زندگی کے خاتمے کا منصوبہ بنایا جس کے لئے انہوں اپنے گھر میں نیاز/ختم شریف کے نام پراہل علاقہ کو مدعو کیا ، اور انہیں کو کھانا کھلانے کے بعد کہا گیا کہ کوئی شخص یہاں سے نہ جائے آج آپ لوگوںکے سامنے ایک اہم اعلان کروایا جائے گا،اویس شاہ نے برطانیہ سے بیٹھ کر فون پر اہلیان علاقہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ عدنان کو کہیں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اگر وہ طلاق نہیں دے گا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، اسی دوران اویس شاہ کے کہنے پرمسمی رقیب ساکن ملہاڑ کے جو سائلہ کے گھر آیا اور عدنان سے کہا کہ اویس شاہ نے فون کیا ہے اور وہ آپ کو اپنے گھر بلا رہا ہے

اویس شاہ نے عمار شاہ اور الف۔ک کی ایما پر عدنان کو فون پرگالم گلوچ کیا اور اہلیان علاقہ کے سامنے رسوا کرتے ہوئے کہا کہ مائیک پر آکراپنی بیوی کو طلاق دو ورنہ تمہیں سنگین نتائج بھگتنے ہونگے۔اویس شاہ ، عمار شاہ اور الف۔ک کی ملی بھگت اور سازش کے عیاں ہونے اور اہلیان علاقہ کے سامنے رسوائی پر عدنان دلبرداشتہ ہو کر شدید خوف اور ذہنی دبا کی حالت میںروتا ہوا گھر آیا اور مجھے اور میرے بڑے بیٹے عرفان جو بیرون ملک ہے کو کال کر کے بتایا کہ کہ میری بیوی اویس شاہ اور عمار شاہ کے ساتھ مل کر مجھے قتل کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے جبکہ اسے اہلیان علاقہ کے سامنے بھی رسوا کر دیا گیا ہے، اس کے کچھ ہفتے بعد میری بہو نے اپنے اوپر تشدد کا جھوٹا ڈرامہ رچا کر جناب سیشن جج صاحب کی عدالت میں کال کی جس پر پولیس ہمارے گھر آئی اور پولیس نے موقع دیکھنے کے بعد عدالت میں اس بات کی گواہی دی کہ عدنان نے اپنی بیوی پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا ،سائلہ کے بیٹے نے عمار شاہ،اویس شاہ اورالف ۔ک سمیت دیگر کی سازشوں، اسے معاشرے میں رسوا کرنے کی کوششوں اور آئے روز اسے قتل کرنے کی دھمکیوں پر شددید ذہنی دباو میں آکر 4نومبر2025 کو اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے ۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی