پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ سینیٹ میں کوئی بھی آئی ٹی، پی ٹی اے یا رائٹ آف وے بل مکمل پارلیمانی جانچ کے بغیر منظور نہیں ہوگا۔شیری رحمان نے متنازع آئی ٹی بل کے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا کہ قومی اسمبلی سے آنے والے بل میں متنازع شقیں برقرار تھیں، اسی لئے سینیٹ میں روک دیا گیا، شق 27 اے سمیت کئی سخت اور ناقابل قبول دفعات حذف نہ ہونے پر بل قائمہ کمیٹی کو بھجوایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فائبرائزیشن کے خلاف نہیں، لیکن نجی ملکیت اور رائٹ آف وے پر سمجھوتہ قبول نہیں، بھاری جرمانوں اور انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات دینے کی مخالفت جاری رہے گی۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بل پر جلد بازی کی کوئی ضرورت نہیں، تمام تحفظات دور ہونے تک منظوری نہیں دی جائے گی، عوامی اعتماد کے لئے بل پر پبلک ہیئرنگ بھی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ نجی ملکیت بنیادی آئینی حق ہے، اس پر اثر انداز ہونے والی شقیں قبول نہیں، قائمہ کمیٹی میں دوبارہ وہی ترامیم پیش کریں گے، موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی