کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 13، ڈی 2 میں نومولود بچی کو عمارت سے پھینکنے کے معاملے میں پولیس نے شک ظاہر کیا ہے کہ بچی پھینکے جانے کے وقت زندہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق مطابق پولیس کو شبہ ہے جب نومولود بچی کو اوپر سے پھینکا گیا تو وہ زندہ تھی، بچی کی عمر تقریبا 3 سے 4 دن تھی، اور عمارت کے ڈکٹ ایریا کی طرف نومولود کو اوپر سے نیچے پھینکنے کے شواہد بھی موجود ہیں۔پولیس نے گلشن اقبال تھانے میں اس واقعے میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شام مددگار 15 پر شہری کی اطلاع ملی تو پولیس جائے وقوعہ پہنچی۔پولیس حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ پیدائش چھپانے کی نیت سے نومولود بچی کو رائل آئیکون اپارٹمنٹ کی بالائی منزل سے پھینکا گیا تھا، فلور کی دیواروں پر خون کے چھینٹے اور نشانات پائے گئے ہیں۔ بعد ازاں پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے جناح اسپتال منتقل کیا ہے۔نومولود کے ڈی این اے، سیرولوجی ٹیسٹ کے نمونے حاصل کر کے تحویل میں لے لئے گئے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ دفعہ 329 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ پولیس نے بچی کی نعش تدفین کے لئے ایدھی ہوم سہراب گوٹھ پہنچا دی ہے، اور لیڈی ایم ایل او سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی