پاکستان میں بڑھتی مہنگائی اور آمدنی میں کمی نے عوام کی پلیٹ سے متوازن غذا بھی چھین لی، 63فیصد لوگ صحت بخش خوراک خریدنے سے بھی قاصر ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق یہ بات اقوام متحدہ کی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026 رپورٹ میں کہی گئی ہے ۔رپور ٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی 63 فیصد آبادی، یعنی تقریبا 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، ایک وقت کی معیاری اور صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں صحت بخش خوراک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اسے خریدنے کی صلاحیت رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد خطے میں کم ترین سطح پر ہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی کا نہیں بلکہ عوام کی قوتِ خرید کا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہوگئی، تاہم اسی عرصے میں غربت کی لکیر فی کس 3 ہزار 758 روپے سے بڑھ کر 8 ہزار 484 روپے تک پہنچ گئی۔مہنگائی کو نکالنے کے بعد حقیقی آمدنی میں تقریبا 13 فیصد کمی ہوئی، جبکہ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی