پنجاب میں چائلڈ لیبر سنگین مسئلہ بن گئی، 60 لاکھ سے زائد بچے متاثر چائلڈ لیبر سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پنجاب میں 5 سے 14 سال کے بچوں کی بڑی تعداد مزدوری پر مجبور ہے، چائلڈ لیبر ایکشن پلان 2025 کیلئے فنڈز تاحال جاری نہ ہو سکے، بحالی مراکز کے قیام کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔فنڈز نہ ملنے سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کی کوششیں متاثر ہونے لگیں ، مستقل حل نہ ہونے پر بچے دوبارہ مزدوری پر مجبور ہو گئے، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے وسائل محدود ہونے کے سبب صرف سنگین کیسز پر ہی توجہ مرکوز ہے۔محکمہ لیبر کو تین سالہ ایکشن پلان کیلئے فنڈز نہ مل سکے
ایک سال میں صرف 2 ہزار بچوں کو چائلڈ لیبر سے نکالا جا سکا، 2 ہزار میں سے 40 فیصد بچے دوبارہ ڈراپ آٹ ہو گئے،4 اضلاع میں ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کا منصوبہ التوا کا شکار ہے۔لاہور، رحیم یار خان، ساہیوال، سرگودھا میں سینٹرز بنانے کی تجویز ہے ، ہر سینٹر میں 200 بچوں کی گنجائش اور 2 ایکڑ رقبہ مختص کیا جائے گا، 2024میں مانگی گئی فنڈنگ تاحال جاری نہ ہو سکی۔آئندہ مالی سال کیلئے 1 ارب 23 کروڑ روپے مانگے گئے، محکمہ کو سکیم واپس لینے کی ہدایت کی گئی، چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے فیملی انڈومنٹ فنڈ کی تجویز ہے۔ڈی جی لیبر پنجاب نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کورٹس جلد فعال ہوں گی، بحالی مراکز کیلئے دوبارہ فنڈز طلب کر لیے گئے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی