ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین نصوتیون بن اسماعیل نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں جن میں انسداد دہشت گردی ،سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف عل زرداری سے ملائیشین وزیر داخلہ سیف الدین نصوتیون اسماعیل کی ملاقات ہوئی ، جس میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے انسدادِ دہشت گردی اور دوطرفہ تجارت سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے برادرانہ تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، انہوں نے انسدادِ دہشت گردی، منشیات کی روک تھام اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ملاقات کے دوران داخلی سلامتی، امیگریشن اور قانونی و عدالتی امور میں ادارہ جاتی تعاون کی پیش رفت کو سراہا گیا، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون سے دونوں ممالک کے شہریوں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے، صدرِ مملکت نے ملائیشیا میں پاکستانی مصنوعات کیلئے مزید مارکیٹ تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ ملائیشیا میں پاکستانی چاول، آلو، گندم، پولٹری اور جانوروں کی خوراک کی طلب موجود ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے کیلئے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ 2026 پاکستان اور ملائیشیا کے سفارتی تعلقات کے قیام کا 69واں سال ہے، ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان فضائی رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان اس وقت ہفتہ وار 14 پروازیں چل رہی ہیں، جبکہ فضائی رابطوں میں مزید اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملائیشین وزیرِ داخلہ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملائیشیا کے وزرائے داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے ملاقات کی، جس میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوتیون بن اسماعیل نے وزارتِ داخلہ کا دورہ کیا، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا استقبال کیا، ملاقات میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، غیر قانونی امیگریشن اور سائبر کرائمز کی روک تھام سمیت سکیورٹی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں ممالک نے دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کی سرکوبی کے لیے انٹیلیجنس شیئرنگ بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ انسداد دہشت گردی، منشیات اور انسانی سمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا، مذاکرات کے دوران کوسٹ گارڈز کے شعبے میں تعاون اور تربیتی پروگرامز کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کے شعبے میں تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے
پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور رائل ملائیشین پولیس کالج کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت تربیتی پروگرامز، تجربات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لئے روابط مزید مضبوط کیے جائیں گے۔ملاقات میں دونوں وزارتوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، اس اقدام کا مقصد باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینا اور رابطہ کاری کو مثر بنانا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملائیشین وزیر داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو اگلی سطح پر لے جانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔محسن نقوی نے ملائیشیا کو مسلم ممالک میں تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، ملاقات میں سیاحت کے فروغ اور ویزا سہولیات میں آسانی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، ملائیشیا پاکستانی شہریوں کیلئے سیاحت کا ایک بہترین آپشن ہے اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط بڑھانے کے لیے ویزا سہولیات میں مزید آسانی مفید ثابت ہوگی۔دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سکیورٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تربیت، سیاحت اور افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی