سی ڈی اے کی ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر انعم فاطمہ نے کہا ہے کہ سید پور میں غیر قانونی تعمیرات اور قابضین کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، سید پور نیشنل پارک کا حصہ ہے، جسے چند قابضین نے کنکریکٹ جنگل میں بدل دیا، نالے کے کنارے تعمیر کئے گئے تمام مکانات خالی کرا لئے گئے ہیں ، غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے ہیں ۔ سید پور میں جاری آپریشن سے متعلق ڈاکٹر انعام فاطمہ نے مزید کہا کہ سید پور میں بعض شہریوں نے چند مرلے زمین خریدی، جس کے بعد وسیع رقبے پر قبضہ کر لیا گیا، ایسی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سی ڈی اے آپریشن کر رہا ہے، اور جسے جاری رکھا جائے گا۔ سی ڈی اے کے مطابق ایک شہری نے سید پور میں چھ مرلے کا مکان خریدا، تاہم بعد ازاں یہ خاندان تئیس کنال اراضی پر قابض ہو گیا ہے۔ معاوضے کی ادائیگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا کر رہا ہے، تاہم قانون کے مطابق معاوضہ صرف خریدی گئی جائیداد کا ہی ملے گا، جس زمین پر قبضہ کیا گیا، اس کا معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔


کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی