آئی این پی ویلتھ پی کے

تین سال میں ریلوے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے صرف 8.7 ارب روپے مختص: ویلتھ پاکستان

February 11, 2026

حکومت نے 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان ریلوے کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ضرورت کے مقابلے میں صرف 8.7 ارب روپے مختص کیے۔ویلتھ پاکستان کو حاصل دستاویز کے مطابق 2022-23 میں 4.7 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں صرف 2.6 ارب روپے مختص کیے گئے۔مالی سال 2023-24 میں 6.4 ارب روپے کی ضرورت کے مقابلے میں 1.7 ارب روپے فراہم کیے گئے۔مالی سال 2024-25 میں 8.1 ارب روپے کی مجموعی طلب کے مقابلے میں 4.4 ارب روپے مختص کیے گئے۔اس وقت پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں 11,881 کلومیٹر پٹڑی اور 7,791 کلومیٹر روٹ موجود ہے جن میں سے 67 فیصد پٹڑی اپنی مقررہ مدت پوری کر چکی ہے۔دستاویز کے مطابق مالی مشکلات کے باوجود دستیاب وسائل سے معمول کی پٹڑی کی دیکھ بھال باقاعدگی سے کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرینوں کی محفوظ اور ہموار آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں میں پٹڑی کی بحالی کا کام جاری ہے۔پاکستان ریلوے نے نظام میں خرابیوں کو روکنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

سکھر ڈویژن میں روہڑی تا خانپور اور ٹنڈو آدم تا روہڑی سیکشن، کراچی ڈویژن میں کیماڑی تا حیدرآباد سیکشن، جبکہ شورکوٹ، فیصل آباد اور قلعہ شیخوپورہ کے راستے خانیوال تا شاہدرہ سیکشن پر پٹڑی کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔شورکوٹ، فیصل آباد اور قلعہ شیخوپورہ کے راستے خانیوال تا شاہدرہ سیکشن ملتان اور لاہور دونوں ڈویژنز پر مشتمل ہے۔مزید برآں، کراچی ڈویژن میں کوٹری تا آخوند آباد، بشمول کوٹری تا دادو سیکشن، پٹڑی کی بحالی کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔تھر کول سے نیو چھور کے مقام پر موجودہ ریلوے نیٹ ورک تک نئی ریلوے لائن تعمیر کی جا رہی ہیجس میں پورٹ قاسم تک آخری مرحلے کی رابطہ سہولت بھی شامل ہے۔محکمہ ریلوے نظام میں موجود کچھ کمزور پلوں کی بحالی کا کام بھی کر رہا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک