i آئی این پی ویلتھ پی کے

مضبوط معاشی بنیادیں بیرونی اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں،ویلتھ پاکستانتازترین

August 12, 2026

پاکستان نے بہتر معاشی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، مالیاتی استحکام اور مسلسل ساختی اصلاحات کے ذریعے بیرونی معاشی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنالی ہے، تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اب بھی اہم خطرات ہیں۔وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و مستقبل کی صورتحال رپورٹ (جولائی 2026) کے مطابق پاکستان گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد مالی سال 2026-27 میں پہلے سے مضبوط معاشی بنیادوں کے ساتھ داخل ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی کارکردگی میں بہتری، مہنگائی میں کمی، بیرونی کھاتے کی بہتر صورتحال اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے معیشت کی مزاحمت کی صلاحیت بڑھائی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطی میں دوبارہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی اجناس کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان مضبوط معاشی حفاظتی اقدامات اور محتاط معاشی انتظام کے باعث بیرونی اثرات کو برداشت کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ تاہم بدلتے ہوئے عالمی خطرات کے پیش نظر معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل محتاط نگرانی ضروری ہوگی۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کی مالیاتی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔

جولائی تا مارچ کے دوران مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے 5.6 فیصد کے مقابلے میں کم ہوکر مجموعی قومی پیداوار کا 3.7 فیصد رہ گیا جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس بڑھ کر 3 فیصد ہوگیا۔ اس بہتری میں محصولات میں مضبوط اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں کمی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان اقدامات سے مستقبل کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کو زیادہ مالی گنجائش حاصل ہوئی ہے۔وزارت خزانہ نے بیرونی شعبے میں بھی نمایاں بہتری کو اجاگر کیا ہے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ریکارڈ ترسیلات زر، خدمات کی برآمدات میں اضافہ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے نے بیرونی استحکام برقرار رکھنے میں مدد دی، اگرچہ معاشی بحالی کے نتیجے میں درآمدات بڑھنے سے اشیا کی تجارت کا خسارہ وسیع ہوا۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی مالیاتی شعبے میں اصلاحات کا مقصد مالی وسائل کے ذرائع کو وسیع اور ملکی سرمایہ منڈیوں کو مزید گہرا کرکے معیشت کی مزاحمت کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

اس سلسلے میں حکومت نے انویسٹ پاک کے نام سے ڈیجیٹل سرمایہ کاری کا پلیٹ فارم متعارف کرایا، جاز کیش کے ذریعے عام شہریوں کو سرکاری قلیل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کی سہولت دی اور مستقبل میں حکومت کی جانب سے بیرونی بانڈز کے اجرا میں معاونت کے لیے عالمی بینکاری اتحاد مقرر کیے۔دستاویز کے مطابق پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار قرضہ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھا کر بی کردی ہے۔ ریٹنگ میں بہتری کی وجوہات میں مالیاتی کارکردگی میں اضافہ، ادارہ جاتی صلاحیت میں بہتری، اصلاحات کا تسلسل اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، قیمتوں میں استحکام قائم رکھنا، بیرونی مالیاتی حفاظتی ذخائر مضبوط کرنا اور ساختی اصلاحات آگے بڑھانا معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی کے بنیادی ستون رہیں گے۔وزارت خزانہ کے مطابق بیرونی خطرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا، تاہم پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی معاشی بنیادوں نے مستقبل میں ممکنہ بیرونی معاشی اثرات سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک