حکومت نے خبردار کیا ہے کہ معمول سے کم بارشوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث رواں خریف سیزن میں فصلوں کو نمایاں خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، حالانکہ زرعی قرضوں، زرعی مشینری اور اہم زرعی مداخل کی دستیابی میں بہتری آئی ہے۔وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی جائزہ و مستقبل کی صورتحال رپورٹ (جولائی 2026) کے مطابق محکمہ موسمیات نے 30 جون 2026 کو جاری موسمی پیش گوئی میں ملک کے بیشتر علاقوں میں جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران معمول سے کم بارشوں کی پیش گوئی کی تھی جس سے اہم خریف فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی پر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر فصلوں کی نشوونما کے دوران بارشیں معمول سے کم رہیں تو گنے، چاول، کپاس اور مکئی کو پانی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ درجہ حرارت میں اتار چڑھا کے باعث تیز ہواں، گرد و غبار کے طوفان، گرج چمک اور ژالہ باری کا بھی خدشہ ہے جس سے کھڑی فصلوں، سبزیوں اور باغات کو اضافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔دستاویز کے مطابق موسمی خطرات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب زرعی سرگرمیوں میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ، جولائی تا مئی کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی 21.4 فیصد اضافے کے ساتھ 2.791 کھرب روپے ہوگئی جس سے کاشتکاروں کو فصلوں کی پیداوار اور جدید زرعی طریقوں میں زیادہ سرمایہ کاری کا موقع ملا۔رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران زرعی مشینری کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا۔ زرعی مشینری اور آلات کی درآمد 23.1 فیصد بڑھ کر 135.3 ملین ڈالر ہوگئی جبکہ ملک میں ٹریکٹروں کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 3.6 فیصد اضافے کے ساتھ 29,633 یونٹس تک پہنچ گئی۔
ٹریکٹروں کی فروخت بھی 28,791 یونٹس رہی جو مشینی کاشتکاری کی مسلسل طلب کی عکاسی کرتی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق خریف سیزن کے لیے کھاد کی دستیابی مجموعی طور پر تسلی بخش رہی، تاہم اس کے استعمال میں مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے۔ اپریل تا جون 2026 کے دوران یوریا کی کھپت سالانہ بنیاد پر 17.8 فیصد اضافے کے ساتھ 14 لاکھ 74 ہزار ٹن ہوگئی جبکہ ڈی اے پی کی کھپت 37.3 فیصد کم ہوکر ایک لاکھ 94 ہزار ٹن رہی، جس کی بڑی وجہ اس کی بلند قیمتیں ہیں۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ زرعی قرضوں، مشینری اور دیگر زرعی مداخل تک بہتر رسائی نے شعبہ زراعت کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط کیا ہے۔ تاہم فصلوں کی پیداوار میں ان سرمایہ کاری کے فوائد کو تبدیل کرنے کے لیے سازگار موسمی حالات انتہائی اہم رہیں گے۔ ناموافق موسمی حالات میں مالی معاونت اور مشینی کاشتکاری میں اضافے کے باوجود پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔وزارت خزانہ کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل جاری رہے گا جسے زرعی سرگرمیوں میں مضبوطی، صنعتی کارکردگی میں بہتری اور مجموعی معاشی بنیادوں کے استحکام سے مدد ملے گی۔ تاہم رپورٹ میں موسمیاتی خطرات کو ایک اہم غیر یقینی عنصر قرار دیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے دوران زرعی پیداوار اور مجموعی معاشی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خریف سیزن کے دوران زرعی پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے موسمی حالات کی مسلسل نگرانی اور ابھرتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے مثر انداز میں نمٹنا ضروری ہوگا۔ اگرچہ کاشتکاروں کو بہتر مالی سہولتوں اور مشینی کاشتکاری سے فائدہ ہوا ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں فصلوں کی کارکردگی کا انحصار بالآخر بارشوں کے انداز اور شدید موسمی واقعات کے اثرات پر ہوگا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک