i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان ریلوے کا 210 ارب روپے کا بجٹ، آمدن اور آپریشنز میں بہتری پر توجہ،ویلتھ پاکستانتازترین

September 21, 2026

پاکستان ریلوے نے مالی سال 2026-27 کے لیے210 ارب روپے کا متوازن بجٹ تیار کیا ہے جس میں اندرونی آمدن بڑھانے، مسافر اور مال برداری سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ، تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور بہتر کارکردگی کے لیے آپریشنل اخراجات برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کے مطابق مجموعی آمدنی 210.093 ارب روپے رکھی گئی ہے جو مجوزہ اخراجات کے برابر ہے۔ مالی منصوبے کا مقصد ریلوے آپریشنز کو جاری رکھنا، ملازمین سے متعلق مالی ذمہ داریاں پوری کرنا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔پاکستان ریلوے نے اپنی مجموعی ریلوے آمدن کا ہدف 120 ارب روپے مقرر کیا ہے جس میں ٹرینوں کی آمدورفت سے حاصل ہونے والی آمدن اندرونی وسائل کا بنیادی ذریعہ ہوگی۔ٹرینوں کی آمدورفت سے 101 ارب روپے آمدن متوقع ہے جس میں مسافروں سے 55 ارب روپے اور مال برداری سے 42 ارب روپے شامل ہیں۔ دیگر کوچنگ ٹریفک سے مزید 4 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔آمدن کے منصوبے میں ریلوے کے اثاثوں اور تجارتی سرگرمیوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ریلوے کی متفرق آمدن کا تخمینہ 19 ارب روپے لگایا گیا ہے جو مسافر اور مال برداری کی آمدن کے علاوہ اضافی مالی وسائل فراہم کرے گی۔متفرق آمدن میں جائیداد اور زمین سے 14 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اس میں ریلوے ڈویژنوں سے 9 ارب روپے، ریڈامکو سے 2.5 ارب روپے اور ہیڈکوارٹرز سے مزید 2.5 ارب روپے شامل ہیں۔جائیداد اور زمین کے علاوہ دیگر ذرائع سے مزید 5 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے جس میں پرانے سامان کی فروخت سے 2.4 ارب روپے، تجارتی شعبے کی سرگرمیوں سے 2.2 ارب روپے اور دیگر ذرائع سے 400 ملین روپے شامل ہیں۔ٹرینوں کی آمدورفت اور متفرق آمدن کو ملا کر ریلوے کی مجموعی آمدن 120 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

بجٹ میں عوامی خدمت کی ذمہ داری کے تحت مزید 5.517 ارب روپے کی آمدن بھی شامل کی گئی ہے جس کے بعد وفاقی گرانٹ سے قبل مجموعی آمدن 125.517 ارب روپے بنتی ہے۔وفاقی حکومت کی مالی معاونت کا تخمینہ 84.576 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس میں سے مالی سال 2026-27 کے لیے 70 ارب روپے پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 14.576 ارب روپے درکار ہوں گے۔اضافی رقم میں وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تنخواہوں میں اضافے کے لیے 3.991 ارب روپے، ریٹائرمنٹ فوائد میں اضافے کے لیے 5.585 ارب روپے اور وزیراعظم پیکیج کے لیے 5 ارب روپے شامل ہیں۔اخراجات کے حوالے سے پاکستان ریلوے نے مجموعی بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے 210.093 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز دی ہے۔اخراجات کے منصوبے میں ملازمین سے متعلق اخراجات اور ریٹائرمنٹ فوائد کو ترجیح دی گئی ہے جس کے بعد ایندھن کے اخراجات، مرمت و دیکھ بھال، بجلی و دیگر سہولیات اور دیگر آپریشنل ضروریات شامل ہیں۔وزیراعظم کے امدادی پیکیج، بہتری کے فنڈ، قرضوں کی ادائیگی، قرضوں اور پیشگی رقوم کے علاوہ مخصوص فنڈز میں واجبات کی ادائیگی کے لیے بھی رقم مختص کی گئی ہے۔بجٹ کا مجموعی ڈھانچہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ریلوے مسافر اور مال برداری کی آمدن کے ساتھ ساتھ جائیداد کے بہتر استعمال، تجارتی سرگرمیوں اور ٹرینوں کی آمدورفت کے علاوہ دیگر ذرائع سے آمدن بڑھا کر اپنی مالی اور عملی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ضروری آپریشنز اور مسافروں کو خدمات کی فراہمی کے لیے مطلوبہ مالی وسائل بھی برقرار رکھے گئے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک