i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان کے بڑے آبی ذخائر کے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری،ویلتھ پاکستانتازترین

September 21, 2026

پاکستان کے بڑے آبی ذخائر کے منصوبوں پر نمایاں پیش رفت جاری ہے۔ گومل زام کثیرالمقاصد منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، منگلا ڈیم کی بلندی میں اضافے کا منصوبہ 99.5 فیصد مکمل ہو گیا ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کا منصوبہ 94.22 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے مرکزی منصوبے کا حصہ تانگیر پن بجلی منصوبہ جون 2026 تک 22.150 فیصد فزیکل اور 45.890 فیصد مالی پیش رفت حاصل کر چکا تھا۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 64 لاکھ ایکڑ فٹ درج کی گئی ہے۔دیامر بھاشا ڈیم کے لیے زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کے حصے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جو فزیکل طور پر 94 فیصد اور مالی طور پر 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے پر 54 فیصد فزیکل اور 76 فیصد مالی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 6 لاکھ 76 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔منگلا ڈیم کی بلندی میں اضافے کا منصوبہ تکمیل کے قریب ترین منصوبوں میں شامل ہے جس پر 99 فیصد فزیکل اور 95 فیصد مالی پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس کی درج شدہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 28 لاکھ 80 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔نئی گاج ڈیم منصوبے پر 48 فیصد فزیکل اور 50 فیصد مالی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک لاکھ 60 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ناولونگ کثیرالمقاصد ڈیم منصوبے پر مطالعاتی مرحلے میں 6.38 فیصد فزیکل پیش رفت اور 6.230 فیصد مالی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک لاکھ 99 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ہنگول ڈیم منصوبے کے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، ٹینڈر دستاویزات کی تیاری اور پی سی۔ون پر 94 فیصد فزیکل اور 65 فیصد مالی پیش رفت ہو چکی ہے۔

منصوبے کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8 لاکھ 16 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔گومل زام کثیرالمقاصد منصوبے کے دوسرے نظرثانی شدہ پی سی۔ون پر 100 فیصد فزیکل اور 92 فیصد مالی پیش رفت حاصل ہو چکی ہے۔ منصوبے کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8 لاکھ 92 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔دیگر آبی ذخائر کے منصوبے بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ وندر ڈیم منصوبے پر 92 فیصد فزیکل اور 88 فیصد مالی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 54 ہزار 500 ایکڑ فٹ ہے۔ٹاپوک ڈیم کی تعمیر 91 فیصد فزیکل اور 88 فیصد مالی طور پر مکمل ہو چکی ہے جبکہ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 24 ہزار 953 ایکڑ فٹ ہے۔ضلع خاران میں گراوک ذخیرہ ڈیم منصوبے پر 82 فیصد فزیکل اور 80 فیصد مالی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 53 ہزار 25 ایکڑ فٹ ہے۔بلوچستان میں 100 ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے کے پیکیج دوم، جس میں 20 ڈیم شامل ہیں، پر 88 فزیکل طبعی اور 85 فیصد مالی پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کی پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 91 ہزار 610 ایکڑ فٹ ہے۔گوادر میں شہزنگ ڈیم منصوبے پر 80 فیصد فزیکل اور 66 فیصد مالی پیش رفت ہوئی ہے جبکہ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 37 ہزار 891 ایکڑ فٹ ہے۔سنی گڑ ڈیم منصوبے پر 71 فیصد فزیکل اور 60 فیصد مالی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 34 ہزار 226 ایکڑ فٹ ہے۔جون 2026 تک ضلع کرک میں چشمہ اخوڑہ خیل ڈیم منصوبے پر 84 فیصد فزیکل اور 85 فیصد مالی پیش رفت ہو چکی تھی۔ اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 3 ہزار 994 ایکڑ فٹ ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک