اقوام متحدہ میں ایٹمی عدم پھیلائو کے معاہدے کے نفاذ سے متعلق کانفرنس میں ایران کو بھی نائب صدر منتخب کر لیا گیا۔ایران کے نائب صدر منتخب ہونے پر امریکا کی جانب سے شدید اختلاف سامنے آیا، اور اس موقع پر امریکا اور ایرانی مندو بین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے کرسٹوفر یی آئو نے کہا کہ ایران کا انتخاب ایٹمی عدم پھیلائو کے معاہدے کی توہین ہے۔ایران کے نمائندے رضا نجفی نے امریکی مندوب کے بیان کو بے بنیاد اور سیاسی نقطہ نظر کی ترجمانی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کی واحد ریاست ہے جو ایٹمی ہتھیار استعمال کر چکی ہے اور اب ایٹمی عدم پھیلاو کے نفاذ کے لیے ثالث بھی بننا چاہتی ہے۔رضا نجفی کا کہنا تھا کہ ایران دنیا کے ان ملکوں میں شامل ہے جنہوں نے ایٹمی عدم پھیلاو کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کر رکھے ہیں جب کہ اسرائیل نے اب تک اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔
قبل ازیں این پی ٹی کے نفاذ پر منعقدہ گیارہویں کانفرنس کے دوران دنیا کے مختلف ملکوں نے 34 نائب صدور کا انتخاب کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر امریکا اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر سخت اختلافات سامنے آئے، امکان ہے کہ یہ تنازع چار ہفتوں پر محیط اجلاس کے دوران جاری رہے گا۔تنازع کی بنیادی وجہ کانفرنس کے 34 نائب صدور میں ایران کا انتخاب ہے، ایران کو یہ نامزدگی غیر وابستہ تحریک کی جانب سے دی گئی تھی جس میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک پر مشتمل 121 ممالک شامل ہیں۔امریکا کو اس معاملے میں آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی جبکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا، روس نے ایران کو نشانہ بنانے کی مخالفت کی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی