امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے کے مطابق ایران اب بھی نمایاں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا حامل ہے، باوجود اس کے کہ گزشتہ 5 ہفتوں کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اہداف پر مسلسل حملے کیے گئے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے تقریبا نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں جبکہ ہزاروں یک طرفہ حملہ آور ڈرونز بھی اس کے ذخیرے میں موجود ہیں، جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ کچھ میزائل لانچرز زیرِ زمین ہونے یا حملوں کے باعث ناقابل رسائی ضرور ہو سکتے ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی تقریبا 50 فیصد ڈرون صلاحیت بدستور موجود ہے، جبکہ ساحلی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے کروز میزائلوں کی بڑی تعداد بھی محفوظ ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا نے اپنی فضائی کارروائیوں میں زیادہ تر ساحلی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا، جس کے باعث یہ میزائل بدستور فعال ہیں۔یہ میزائل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی اہم صلاحیت رکھتے ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی