امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں واپس آئے یا نہ آئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہنیٹو کے لیے امریکی اخراجات کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ غیرملکی خبررساںا دارے کے مطابق امریکی صدر نے فلوریڈا سے واپسی پر میری لینڈ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے ایران مذاکرات میں واپس آئے یا نہ آئے۔ان کے مطابق مجھے پرواز نہیں کہ وہ واپس آئیں یا نہ آئیں، اگر وہ نہیں بھی آتے تو بھی ٹھیک ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو کے لیے امریکا کے اخراجات کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ٹرمپ نے اس موقع پر نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں مناسب حمایت فراہم نہیں کی۔
ان کے مطابق وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے، اب وہ سامنے آنا چاہتے ہیں، لیکن اب کوئی حقیقی خطرہ باقی نہیں رہا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ نیٹو میں امریکا کی شمولیت اور اس پر ہونے والے اخراجات کی افادیت پر بھی وہ طویل عرصے سے سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے روس کے خلاف یورپی ممالک کے دفاع کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ٹرمپ نے کہا ہم نے نیٹو پر کھربوں ڈالر خرچ کیے تاکہ ہم روس کے خلاف ان کی حفاظت کریں، اور میں ہمیشہ سے سمجھتا تھا کہ یہ قدرے مضحکہ خیز ہے، لیکن ہم یہ خرچ کرتے رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اب اس تمام معاملے کا انتہائی سنجیدہ جائزہ لیا جائے گا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکا مستقبل میں نیٹو کے لیے اپنی مالی اور اسٹریٹجک وابستگی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی