امریکا کی جانب سے نیٹو سے ممکنہ انخلا کے خدشے کے پیش نظر یورپ متبادل دفاعی منصوبہ تیز کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 'یورپی نیٹو' تصور کے تحت یورپی ممالک کا کمانڈ اور کنٹرول میں بڑا کردار سنبھالنے کی تیاری کی جارہی ہے، منصوبے کا مقصد نیٹو کو بدلنا نہیں بلکہ امریکی انخلا کی صورت میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔امریکی اخبار کے مطابق جرمنی کی پالیسی میں تاریخی تبدیلی نے منصوبے کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، ٹرمپ کے بیانات، نیٹو چھوڑنے اورگرین لینڈ پرقبضے کی دھمکی نے یورپی خدشات مزید بڑھائے۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران جنگ پر امریکا اور یورپ کے اختلافات نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو شدید متاثر کیا، یورپی ممالک فضائی دفاع، لاجسٹک، انٹیلیجنس اور فوجی قیادت جیسے اہم شعبوں میں خلا پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،لازمی فوجی سروس کی بحالی اور دفاعی پیداوار میں اضافہ بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق سب سے بڑا چیلنج امریکی جوہری چھتری اور سیٹلائٹ/انٹیلی جنس نظام کا متبادل تیار کرنا ہے، فرانس جرمنی کی یورپی جوہری دفاع کے پھیلا ئوپر ابتدائی بات چیت نئی حکمت عملی کا حساس ترین پہلو ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کیلئے وسیع اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرنا شروع کر دیا۔ یورپی ممالک ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں مختلف ممالک کو شامل کیا جائیگا اور اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے منصو بے میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے اور دیگر فوجی بحری جہاز بھیجنا شامل ہے تاکہ اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یورپ ایک ایسا بعد از جنگ منصوبہ بھی تیار کر رہا ہے جس کے تحت امریکا کی براہ راست شمولیت کے بغیر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کو بحال رکھا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی