ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے جس پر تہران غور کر رہا ہے،جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ایران کے روس جیسے عظیم دوست اور اتحادی ہیں، روس کے ساتھ اعلی ترین سطح پر بات چیت سے خوش ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب خطہ بڑے تنازعات سے گزر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سینٹ پیٹرز برگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران سپر پاور کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، واشنگٹن اپنے مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کر پایا ہے اسی لئے انہوں نے مزید مذاکرات کی درخواست کی ہے اور ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے کریملن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ نے دکھا دیا ہے کہ ایران کے روس جیسے عظیم دوست اور اتحادی ہیں۔
دریں اثنا ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے روس کے ساتھ اعلی سطح کے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ اعلی ترین سطح پر بات چیت سے خوش ہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب خطہ بڑے تنازعات سے گزر رہا ہے۔انہوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ حالیہ واقعات نے ہماری اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی اور مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے دونوں ممالک کے تعلقات فروغ پا رہے ہیں، ایران روس کی یک جہتی پر شکر گزار ہے اور سفارت کاری کے لیے اس کی حمایت کا خیر مقدم کرتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی