امریکی فوج نے ایک اور جہاز کو ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے سے روک دیا جبکہ ایران نے 2 بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کے امریکی اقدام کو مسلح ڈکیتی قرار دیدیا ہے ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹ کام )کی طرف سے 2 جہازوں کی تصویر کے ساتھ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام امریکی ناکہ بندی کا حصہ ہے۔ میرین ٹریفک کے مطابق ایم ٹی اسٹریم ایرانی پرچم بردار ٹینکر ہے ۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے دو تیل بردار بحری جہازوں ماجسٹک ایکس اور ٹیفانی کی امریکی تحویل میں لئے جانے پر سخت ردعمل دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام کھلے عام قزاقی اور سمندروں میں مسلح ڈکیتی کو قانونی شکل دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا یہ اقدام قزاقوں کی واپسی کا خیر مقدم ہے بس فرق یہ ہے کہ اب وہ سرکاری اجازت ناموں کے ساتھ ریاستی پرچم کے تحت اور اپنی لوٹ مار کو قانون نافذ کرنا قرار دے کر کام کر رہے ہیں۔ امریکا اور ایران کی افواج نے تجارتی بحری جہازوں کی تحویل سے متعلق الگ الگ بیانات جاری کئے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی بدستور جاری ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی