اسرائیلی عدالت نے غزہ کیلئے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا سے گرفتار دو غیر ملکی کارکنوں کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ۔ دونوں افراد کو اشکلون کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سماعت کے بعد ان کی ریمانڈ میں اضافہ کیا گیا۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فلوٹیلا 50 سے زائد جہازوں پر مشتمل تھا، جو فرانس، اسپین اور اٹلی سے روانہ ہوا تھا۔ اس کا مقصد غزہ پر عائد اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں انسانی امداد پہنچانا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی بحری افواج نے جمعرات کے روز یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں اس فلوٹیلا کو روک کر کارروائی کی، جس کے دوران تقریبا 175 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔
ان میں سے زیادہ تر افراد کو یونانی حکام کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ دو افراد کو تفتیش کے لئے اسرائیل منتقل کیا گیا۔زیر حراست افراد میں اسپین سے تعلق رکھنے والے سیف ابو کشک اور برازیل کے شہری تھیاگو اویلا شامل ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران تھیاگو اویلا کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے تھے جبکہ سیف ابو کشک کے پائو ں میں بیڑیاں ڈالی گئی تھیں۔اسرائیلی حکام نے عدالت میں ان دونوں افراد کے خلاف ممکنہ الزامات بھی پیش کیے، جن میں "دورانِ جنگ دشمن کی مدد" اور "کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق یا معاونت" شامل ہیں۔دوسری جانب وزارت خارجہ اسپین نے اپنے شہری سیف ابو کشک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی