قطر نے ہے کہ آبنائے ہرمز کا مستقبل اجتماعی فیصلے سے طے ہوگا۔ترجمان قطری وزارت خارجہ ماجد الانصاری نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کسی ایک ملک کو آبنائے ہرمز کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، خطے میں کشیدگی کے بعد مشترکہ فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ماجد الانصاری کا مزید کہنا تھا کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملے خطرناک اور ناقابل قبول ہیں، توانائی تنصیبات پر روزانہ حملے خطرناک رجحان ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او)کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ساحل کے نزدیک نامعلوم پروجیکٹائل ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ پروجیکٹائل بحری جہاز سے بندرگاہ کی طرف سے ٹکرایا تھا جس سے ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اس واقعے سے ماحولیاتی اثرات کا خطرہ نہیں۔یہ واقعہ کویت اور سعودی عرب سے 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والے ایک ٹینکر کے دبئی کے ساحل کے نزدیک ایرانی ڈرون حملے کا نشانہ بننے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی