قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے فون پر گفتگو کی۔قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو کسی بھی فریق کی جانب سے نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔قطر کے وزیر خارجہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا دونوں رہنماں نے موجودہ کشیدگی اور اس کے خطے پر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا، قطری وزیراعظم نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ ایران کی جانب سے قطر اور دیگر پڑوسی ممالک پر حملے جاری ہیں، جو جنگ سے خود کو دور رکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری تنصیبات اور عوامی وسائل کو نشانہ بنانا ہر حال میں ناقابل قبول ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے ایسی کارروائی کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
دوسری جانب اردن کے نائب وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی اور قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران کی جانب سے دونوں ممالک اور دیگر برادر عرب ریاستوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ عرب میڈیاپورٹس کے مطابق دونوں رہنمائوں کی جانب سے ایران کی ان کارروائیوں کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور انھیں دونوں ممالک کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور ہمسائیوں کے حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی اور ریاستوں کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران خطے میں جاری خطرناک کشیدگی کے اثرات اور اسے ختم کرنے کے لئے سفارت کاری اور مذاکرات کو فعال بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنمائوں کے مطابق ایسے اصولوں کی بنیاد پر حل تلاش کیا جا سکے جو خطے کے امن و استحکام کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کا احترام برقرار رکھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی