i پاکستان

ایران، امریکا کے اسلام آباد میں مذاکرات ، سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، دارالحکومت قلعے میں تبدیل،جڑواں شہروں میں عام تعطیل ،میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنزتازترین

April 09, 2026

ایران اور امریکا کے درمیان ہونیوالے امن مذاکرات کے تناظر میں دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دئیے گئے ہیں،جڑواں شہروں میں دوروزہ عام تعطیل دی گئی ہے جبکہ ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کاداخلہ بند ہے اورمیٹروبس سروس بھی محدود کردی گئی ۔تفصیل کے مطابق ایران اور امریکا کے وفود کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کے پانچ اضلاع میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کا آغاز کر دیا گیا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سبزی منڈی، فیض آباد، ترنول اور کراچی کمپنی سمیت مختلف حساس علاقوں میں کارروائیاں کیں، جبکہ راولپنڈی کے علاقوں پیرودھائی، نور خان ایئر بیس اور حاجی کیمپ میں بھی سرچنگ کا عمل جاری رہا ۔حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کیلئے یہ اقدامات مرحلہ وار جاری رہیں گے اور حساس مقامات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کوائف کی تصدیق کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد میں غیرملکی وفود کی آمد کے باعث خصوصی ٹریفک پلان نافذ کردیا گیا۔ غیر ملکی وفود کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کیلئے اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک جامع ڈائیورشن پلان ترتیب دیا ہے، جس کے تحت جمعرات اور جمعہ کیلئے اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بند کردیا گیا ۔ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون کے تمام راستے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوں گے، تاہم شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستے فراہم کر دئیے گئے ہیں۔پولیس حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصل موڑ، چکری، چک بیلی اور روات روڈ استعمال کریں، جبکہ اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والے شہری نائنتھ ایونیو کا راستہ اختیار کریں۔اسی طرح بھارہ کہو سے راولپنڈی جانے والوں کو کورنگ، بنی گالہ اور لہتراڑ روڈ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ٹریفک پلان کے مطابق پشاور سے لاہور جانے والی ٹریفک ٹیکسلا موٹروے اور ترنول پھاٹک سے فتح جنگ روڈ استعمال کررہی ہے ، جبکہ جی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والے مسافروں کو روات، چک بیلی اور چکری کے راستے بھیجا جا رہا ہے ۔

ایکسپریس وے پر زیرو پوائنٹ سے کورال چوک تک کا راستہ بھی عام ٹریفک کے لیے بند ہے ، اور کرنل شیر خان روڈ سے آنے والوں کو نائنتھ ایونیو سگنل سے اسٹیڈیم روڈ کی طرف موڑ دیا گیا ہے ۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بین الاقوامی وفود کی حفاظت اور مذاکرات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اہم قومی فریضے کی انجام دہی میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دو دن کی مقامی چھٹی کا اعلان بھی کیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق جڑواں شہروں تمام سکول اور دفاتر بند رہیں گے جبکہ ضروری خدمات کے ادارے بدستور کام کرتے رہیں گے۔ دریں اثنا مذاکرات سے قبل جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹروبس سروس محدود کر دی گئی۔میٹرو حکام کا کہنا ہے کہ میٹروبس سروس صدر سٹیشن تا پمز تک فعال کی گئی، پمز سٹیشن تا پاک سیکرٹریٹ تک میٹروبس سروس بند کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر میٹرو بس سروس محدود کی گئی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی