i پاکستان

کائزن فارماسیوٹیکلز ک کے زیر اہتمام اسلام آباد میں سائنٹیفک آنکولوجی سمپوزیم کا انعقادتازترین

January 12, 2026

کراچی اور لاہور کے بعد اسلام آباد میں بھی کائزن فارماسیوٹیکلز، جو مریضوں کو مرکزِ نگاہ رکھتے ہوئے جدید اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے، کی جانب سے کامیاب سائنٹیفک آنکولوجی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ سمپوزیم میں معروف ماہرینِ طب ڈاکٹر کامران رشید اور ڈاکٹر قاسم ایم بٹر نے Tucatinib، Palbociclib، Osimertinib اور Olaparib پر جامع سائنسی پریزنٹیشنز پیش کیں۔ ان موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال ماہر پینل میں شامل ڈاکٹر اظہر شفی خان، ڈاکٹر ندیم ضیا عباسی، مرزا سلیب بیگ اور ڈاکٹر فائزہ اشرف کے ساتھ کیا گیا۔اس سائنسی اجلاس کا مرکزی محور جدید، شواہد پر مبنی اور کم لاگت کینسر علاج کے طریقے تھے، جن میں مریضوں کی آسان رسائی، کلینیکل افادیت اور بہتر علاجی نتائج پر خصوصی زور دیا گیا۔ یہ اقدام کائزن فارماسیوٹیکلز کے اس طویل المدتی وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان میں آنکولوجی پریکٹس کو مثر، معیاری اور کم خرچ علاجی حل فراہم کیے جا رہے ہیں۔سمپوزیم کی ایک نمایاں خصوصیت ڈاکٹر بینا طارق، پروڈکٹ منیجر آنکولوجی کی قیادت اور موڈریشن تھی

جنہوں نے سائنسی مباحث کو مثر انداز میں آگے بڑھایا، ماہرین کی آرا کو ہم آہنگ کیا اور کائزن کی آنکولوجی روڈمیپ کو واضح کیا۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عدنان مقصود اور مارکیٹنگ منیجر ڈاکٹر شاہان بھی موجود تھے، جن کی قیادت نے اس علمی سرگرمی کو مزید تقویت دی۔ ڈاکٹر بینا طارق کی اسٹریٹیجک بصیرت اور علمی قیادت نے سائنسی مکالمے کو نمایاں طور پر موثر بنایا اور ذمہ دارانہ آنکولوجی لانچز کے لیے کائزن کے عزم کو اجاگر کیا۔سائنسی پروگرام میں ملک بھر سے معروف آنکولوجسٹس اور کنسلٹنٹس نے شرکت کی، جنہوں نے کینسر کے جدید علاج، بالخصوص بریسٹ، اووری، لنگ اور دیگر سالڈ ٹیومرز کے لیے جدید حکمتِ عملیوں پر اپنے عملی تجربات شیئر کیے۔ انٹرایکٹو ایکسپرٹ پینلز میں کائزن فارماسیوٹیکلز کی جانب سے متعارف کردہ کم لاگت مگر اعلی معیار کے آنکولوجی علاج پر خصوصی گفتگو کی گئی۔کائزن فارماسیوٹیکلز اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں اعلی معیار کی، شواہد پر مبنی اور قابلِ استطاعت ادویات کے ذریعے کینسر کے مریضوں کے لیے بہتر مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی