محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں دریائے کابل، دریائے سوات اور دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کی غیر قانونی تلاش اور کان کنی پر پابندی عائد کر دی۔اس ضمن میں جاری اعلامیے کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر 60 روز کیلئے نافذ کی گئی ہے، متعلقہ اضلاع صوابی، سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے ڈپٹی کمشنرز کو فوری طور پر اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دریائوں کے کناروں پر غیر قانونی کھدائی کے باعث آلودگی اور زمینی کٹا کے خدشات بڑھ رہے ہیں جبکہ ماحولیاتی نقصان کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔حکام کے مطابق غیر قانونی کان کنی میں استعمال ہونے والی مشینری اور دیگر سامان ضبط کر لیا جائے گا جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی