سپریم کورٹ نے حق مہر میں دی گئی جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم قانونی اصول طے کر دئیے۔عدالت عظمی کے جسٹس شکیل احمد نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ میں لکھا مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار اپنے موروثی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل نہیں کر سکتا، شوہر مشترکہ جائیداد میں صرف اپنے حصے کی حد تک حق مہر دے سکتا ہے، پورے گھر کو حق مہر میں دینے کا دعوی دیگر قانونی ورثا کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔عدالت نے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو حق مہر میں درج جائیداد کی ملکیت کی تصدیق کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے بچنے کیلئے نکاح نامہ میں جائیداد کی ملکیت سے متعلق علیحدہ کالم شامل کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے کی کاپی تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو ضروری کارروائی اور عملدرآمد کے لیے بھیجنے کی ہدایت کر دی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سول پٹیشن بھی خارج کر دی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی