i پاکستان

پاکستان کے 4 شہر موسمیاتی خطروں سے نمٹنے کی کم ترین صلاحیت رکھنے والے شہروں میں شامل،بھارتی شہر احمد آبادپہلے نمبرپر،ملتان کا تیسرا نمبرتازترین

September 09, 2026

دنیا کے بڑے شہروں کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے جائزے کی رپورٹ میں پاکستان کے 4 بڑے شہر بھی شامل ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق دنیا کے 72 بڑے شہروں پر مبنی یہ رپورٹ موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینے والی کمپنی الفاجیو نے جاری کی ہے جس میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شہر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے کس حد تک تیار ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے 6 شہر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی سب سے کم صلاحیت رکھنے والے شہروں میں شامل ہیں۔ان شہروں میں انڈیا کا احمد آباد 41 کے اسکور کے ساتھ پہلے، حیدرآباد دوسرے، پاکستان کا ملتان 38 کے اسکور کے ساتھ تیسرے، ڈھاکہ چوتھے، لاہور پانچویں نمبر، فیصل آباد ساتویں اور کراچی آٹھویں نمبر پر ہے۔الفا جیو نے ان شہروں کو لاحق موسمیاتی خطرے کی بڑی وجوہات میں شدید گرمی اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں محدود موافقتی اقدامات کو قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق جنوبی ایشیا میں ایسے شہروں کی تعداد زیادہ ہے جہاں موسمیاتی خطرات کی شدت کے مقابلے میں موافقت اور تحفظ کے اقدامات ابھی مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

رپورٹ میں موسمیاتی خطرے کو صرف سیلاب تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اندرونِ ملک اور ساحلی سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور سمندری طوفانوں سمیت مختلف خطرات کو جائزے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے بعد شہروں میں موجود موافقتی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی ماندہ خطرے کا اندازہ لگایا گیا۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے نسبتا زیادہ موسمیاتی لچک رکھنے والے بڑے شہروں میں شکاگو، بارسلونا، پیرس، لندن، ایڈیس ابابا، نیروبی اور میلبورن شامل ہیں۔ دوسری جانب چین کے بیجنگ، تیانجن، شین ژین اور شنگھائی نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی کارکردگی کے اعتبار سے بہتر کارکردگی دکھائی۔الفاجیو نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں ممالک کے بڑے شہروں میں موسمیاتی خطرات زیادہ ہیں جبکہ ان خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت اور موافقتی اقدامات میں خلا برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال قدرتی آفات کے بعد بحالی، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور آبادی کی نقل مکانی جیسے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی