عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی 4.2 فیصد کے سالانہ ہدف سے کم رہنے کی پیش گوئی کی ہے،ملک کی معاشی شرح نمو رواں مالی سال 3 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے، اس سال پہلے اندازہ 3.4 فیصد تھا، اب کم ہو کر 3 فیصد رہ گیا۔عالمی بینک نے پاکستان سمیت علاقائی معاشی صورت حال پر رپورٹ جاری کر دی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کشیدگی سے پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہیں، تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور مہنگائی کا دبا ئو بڑھ گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی شرح نمو 3.1 فیصد رہی، 2026 میں مہنگائی بڑھ کر 7.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کرنٹ اکائونٹ سرپلس سے خسارے میں جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے، مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.2 فیصد ہو سکتا ہے، البتہ مالی خسارہ کم ہو کر 4.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، سیاحت اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات متوقع ہیں، پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑی مندی دیکھی گئی، توانائی قیمتوں میں اضافہ معیشت کے لئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نے شوگر سیکٹر میں بڑی اصلاحات کا اعلان کیا، چینی کی قیمتوں اور برآمدات پر حکومتی کنٹرول ختم ہوگا، کسانوں کو گنے کی کاشت میں مکمل آزادی دی جائے گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی