دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی سے اضافے کے باوجود پاکستان اب بھی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے اور ملک میں صرف پندرہ فیصد افراد ہی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں ۔یہ انکشاف گیلپ سروے کی نئی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔پاکستان میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔سروے رپورٹ کے مطابق صرف پندرہ فیصد پاکستانیوں نے اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کئے ہیں،جن میں چیٹ جی پی ٹی،جیمنائے،ڈیپ سیک جیسے ٹولز شامل ہیں،دوسری جانب 85 فیصد اب بھی اس جدید ٹیکنالوجی سے بے خبر ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے لوگ صرف 8 فیصد اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں،جبکہ باون فیصد زیادہ پڑھے لکھے لوگ اے آئی پرانحصار ہے۔کم تعلیم یافتہ افراد میں صرف آٹھ فیصد اے آئی استعمال کرتے ہیں،جبکہ زیادہ تعلیم یافتہ افراد میں یہ شرح باون فیصد تک پہنچ جاتی ہے ۔عمر کے لحاظ سے نوجوان اس دوڑمیں سب سے آگے ہیں،30 سال سے کم عمرنوجوان 26 فیصد اے آئی کا استعمال کررہے ہیں،30 سے 39 سال،دس فیصد،40 سے49 سال، 8 فیصد اور 50 سے 59 میں صرف 7 فیصد لوگ اے آئی استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرڈیجیٹل تعلیم اور آگاہی کو فروغ دیا جائے تو پاکستان میں اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی