سابق وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ میری اور علیمہ خان کی کیا اوقات ہے؟ بانی کی رہائی کے بعد سامنے آجائے گا۔ ایک انٹرویو میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی اور علیمہ خان کی حیثیت کا اصل اندازہ بانی کی رہائی کے بعد ہوگا، کہ کس کی کیا اوقات ہے، میں تو کہتا ہوں کہ بانی کی بہنوں کو ہی پارٹی چئیرمین بنا دیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے بانی کی بہنوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی تھی کہ خدارا باہمی اختلافات ختم کیے جائیں تاکہ عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار ہوسکے ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پارٹی عہدوں سے بعض افراد کو ہٹانے اور نئے لوگوں کو لانے کے فیصلے کس کے کہنے پر ہوئے، یہ سب بانی کے سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا۔علی امین گنڈا پور نے سلمان اکرم راجہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن وہ ڈکٹیٹر بن کر فیصلے کر رہے ہیں۔اسی طرح شہباز گل سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ بیرون ملک بیٹھ کر تنقید کرتے ہیں اور انہیں غدار قرار دیتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بعض افراد کارکنوں کو لڑنے مرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
علی امین نے کہا کہ جو لوگ بیرون ملک بیٹھ کر انقلاب کی باتیں کرتے ہیں وہ پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کریں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق انہوں نے دعوی کیا کہ میرے حکومت کے ساتھ بانی کی شرائط پر مذاکرات جاری تھے اور حکومت کافی حد تک آمادہ بھی ہو گئی تھی، یہاں تک کہ ٹی او آرز بھی تیار ہوچکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پانچ اکتوبر کو کارکنان رکاوٹیں عبور کر کے ڈی چوک تک پہنچ گئے تھے جس سے حکومت پر دبائو بڑھا۔ بعد ازاں مذاکرات کی پیشکش بھی کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ 25 نومبر کو بانی کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان کے ذریعے پیغام ملا کہ سنگجانی پر رک جائیں، تاہم یہ ہدایت نہیں مانی گئی، جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی۔علی امین گنڈا پور نے بعض دیگر شخصیات کے بیانات پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ بانی کی رہائی کے بعد بہت سے معاملات واضح ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بڑے جلسے کیے جاتے تھے مگر اب ملاقات اور علاج کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی