صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) نے ایک یوٹیوبر کو مبینہ طور پر القاعدہ کیلئے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کیے گئے یوٹیوبر کی شناخت ایک یوٹیوب چینل سے منسلک محمد سعد بن ریاض کے نام سے ہوئی۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے سعد کے خلاف ایف آئی آر اپنے ایک اہلکار کی مدعیت میں دائر کی گئی ہے۔لاہور کے سی ٹی ڈی تھانے کے محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ پر موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اور ان میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہے۔پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ جب صبح کے قریب ریڈ کی گئی تو مخبر کی نشاندہی پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنا نام محمد سعد بن ریاض بتایا۔
ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران سعد کے پاس موجود بیگ سے اسامہ بن لادن سے متعلق کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے۔اس کے علاوہ سی ٹی ڈی کے مطابق سعد کے پاس سے القاعدہ کا مممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا۔ایف آئی آر میں اینٹی ٹیرر ازم ایکٹ 1997 کی دفعات 11 ایف (2) اور 11 ڈبلیو شامل کی گئی ہیں۔ 11 ایف (2) کا تعلق کالعدم تنظیم کی رکنیت رکھنے جبکہ 11 ڈبلیو نفرت انگیز مواد یا کسی دہشت گرد یا کالعدم تنظیم کا مواد شائع کرنے اور تقسیم کرنے کے متعلق ہے۔سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ سوموار کی صبح تقریبا ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔سعد کی اہلیہ کا دعوی ہے کہ جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر ان کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔عائشہ کا کہنا ہے کہ سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ ادھر یوٹیوب چینل پر اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی