طالبان حکومت کے وزارتِ دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا ہے کہ نورستان ولایت کے ضلع کامدیش میں پاکستانی فوجی حکومت کی مدد سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے آنے والے شرپسند اور داعش سے وابستہ فتنہ گروں کے خلاف افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز کا آپریشن آج مکمل ہو گیا۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ترجمان نے یہ الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ان عناصر کے خلاف کی گئی جو مبینہ طور پر پاکستان کی سرپرستی میں سرحد پار کرکے نورستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغان سکیورٹی اور دفاعی اداروں نے آپریشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی اپنے اہداف کے حصول کے بعد مکمل کر لی گئی ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق 24 ستمبر نورستان کے ضلع کامدیش کی سمت شرپسند عناصر اور داعش سے وابستہ جنگجوں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوجی حکام کی براہِ راست مدد اور رہنمائی سے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے افغانستان میں داخل ہونے اور تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کی۔ تاہم افغان سکیورٹی فورسز نے ان کی پیش قدمی روک دی اور انھیں اپنے منصوبوں پر عمل درآمد نہیں کرنے دیا۔یہ بیان افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی