پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہونے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے بلیک باکس کا سراغ لگا لیا، سمندر کی 3 ہزار 200 میٹر گہرائی میں جاری دو ماہ کے پیچیدہ سرچ آپریشن کے دوران بلیک باکس کا درست مقام تلاش کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال 7 جولائی کو کے ٹو ایئرویز کی پرواز 1732 کا بوئنگ 737 کارگو طیارہ متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے کراچی آتے ہوئے بحیرہ عرب میں حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔حادثے سے قبل کراچی سے تقریبا 155 ناٹیکل میل دور طیارے کے عملے نے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ عملے کے آخری پیغام میں بتایا گیا تھا کہ طیارہ گھوم رہا ہے یا تیر رہا ہے۔اس کے بعد ریڈار سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق طیارے کی بلندی میں اچانک اور غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔
طیارہ پہلے تیزی سے نیچے آیا، پھر اچانک اوپر گیا اور اس کے بعد تقریبا 22 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے گرتے ہوئے ریڈار سے غائب ہوگیا۔حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار عملے کے پانچوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔حادثے کے فوری بعد پاک بحریہ نے بلوچستان کے ساحلی علاقے اورماڑہ سے تقریبا 53 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر کی سطح اور گہرائی میں سرچ آپریشن شروع کیا۔پاک بحریہ کے جہازوں نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن (نیسکوم) کے تیار کردہ جدید پاکستانی آلات کی مدد سے سمندر کی انتہائی گہرائی میں موجود طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کا سراغ لگایا۔پاک بحریہ کے حکام کے مطابق بلیک باکس کے مقام سے متعلق تمام اہم تکنیکی معلومات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کے حوالے کردی گئی ہیں، تاکہ طیارے کے حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا سائنسی بنیادوں پر تعین کیا جاسکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی