چین کا 2026 سے 2030 تک کا 15واں پانچ سالہ منصوبہ انفراسٹرکچر پر مبنی توسیع سے ہٹ کر شہری کاری کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتا ہیجس میں شہروں کے حجم بڑھانے کے بجائے وہاں رہنے والے افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ ویلتھ پاکستان کے مطابق یہ تبدیلی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں تیز رفتار شہری پھیلا منصوبہ بندی اور خدمات کی فراہمی سے آگے نکل چکا ہے۔نئے منصوبے میں چین کی شہری آبادی کے تناسب میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو مساوی بنیادوں پر بنیادی سہولیات، رہائش اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا واضح ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں سے آنے والے افراد کو شہروں میں ضم کرنے کے لیے رہائشی نظام میں اصلاحات، سماجی تحفظ میں بہتری اور تعلیم و صحت تک رسائی میں اضافہ شامل ہے۔ماضی کے برعکس، جہاں بڑے پیمانے پر تعمیرات کو ترجیح دی جاتی تھی، اب حکمتِ عملی میں بڑے، درمیانے اور چھوٹے شہروں کے درمیان متوازن ترقی پر زور دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ شہری تجدید، گرین انفراسٹرکچر اور مثر پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ شہر زیادہ قابلِ رہائش اور ماحول دوست بن سکیں۔ یہ چین کے ترقیاتی ماڈل میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں گھریلو کھپت اور انسانی سرمایہ کو طویل مدتی ترقی کے اہم محرکات سمجھا جا رہا ہے۔اس منصوبے میں شہری کاری کو معاشی ڈھانچے کی تبدیلی سے جوڑنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ شہری کلسٹرز کے قیام اور شہروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنا کر چین پیداواری صلاحیت میں اضافہ، صنعتی ترقی اور مقامی طلب کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ چونکہ شہری آبادی کی آمدنی اور کھپت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے شہری کاری معاشی توازن کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان کے لیے، جہاں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں، چین کا ماڈل اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان میں شہری پھیلا اکثر غیر رسمی آبادیوں، ناکافی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انسان مرکز شہری کاری کی طرف منتقلی ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے جس میں خصوصا سستی رہائش، مربوط ٹرانسپورٹ نظام اور جامع خدمات کی فراہمی شامل ہے۔
ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر احمد فراز نے کہا کہ پاکستان کی شہری پالیسی طویل عرصے سے پرانے منصوبہ بندی کے ڈھانچوں کی وجہ سے محدود رہی ہے۔ ان کے مطابق چینی ماڈل اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ شہروں کو صرف انتظامی اکائیوں کے بجائے ترقی کے انجن کے طور پر دیکھا جائے، جہاں پیداواری صلاحیت، نقل و حرکت اور معیارِ زندگی پر توجہ دی جائے۔فراز کے مطابق اگر پاکستان چین کی کامیابی کا کچھ حصہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تو زمین کے استعمال، زوننگ اور بلدیاتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ایک اور اہم پہلو ادارہ جاتی ہم آہنگی ہے۔ چین کی شہری کاری کی حکمتِ عملی مضبوط مرکزی منصوبہ بندی اور مقامی سطح پر مثر عملدرآمد کے امتزاج پر مبنی ہے، جس سے مختلف خطوں میں یکسانیت برقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس، کئی ترقی پذیر ممالک میں منتشر حکومتی ڈھانچے پالیسی میں عدم تسلسل کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان میں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ شہری نتائج کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کار اور سابق رکن پلاننگ کمیشن ڈاکٹر امجد رشید کے مطابق جامع شہری کاری پائیدار ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صحت، تعلیم اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسی شہری سہولیات تک رسائی بڑھانے سے عدم مساوات کم ہو سکتی ہے اور معاشی شرکت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔چین کے تجربے سے سیکھتے ہوئے انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو بڑے شہروں پر دبا کم کرنے اور متوازن علاقائی ترقی کے لیے ثانوی شہروں میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔مجموعی طور پر، چین کی شہری کاری کی حکمتِ عملی اس کے ترقیاتی فلسفے میں گہری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ انسانی فلاح، سماجی انضمام اور ماحولیاتی پائیداری کو ترجیح دے کر 2026۔2030 کا منصوبہ ایسے شہر تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے جو نہ صرف بڑے ہوں بلکہ زیادہ مثر اور منصفانہ بھی ہوں۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ان اصولوں کو اپنانا شہری کاری کو ایک مسئلے کے بجائے ترقی اور سماجی بہتری کا طاقتور ذریعہ بنا سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک