کاروباری رہنمائوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے توانائی سپلائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی اقدامات کے بجائے معاشی ایمرجنسی موڈ اختیار کرنا ہوگا۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ذکی اعجاز نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی بحران نے پاکستان کو اپنی معاشی کمزوریوں کا جائزہ لینے اور نئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ازسرِنو ترتیب دینے کا ایک نادر موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جانا چاہیے اور ہائیڈل، سولر، نیوکلیئر اور تھر کوئلے جیسے مقامی وسائل کی طرف حکمتِ عملی کے تحت منتقل ہونا ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں اور زرعی آلات، خصوصا ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کو وسعت دینے سے بیرونی جھٹکوں کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں اور مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بچا جا سکتا ہے۔اعجاز نے مہنگے ایل این جی معاہدوں پر نظرثانی اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹیجک آئل ذخائر بنانے کی بھی تجویز دی۔
ان کے مطابق مشرقِ وسطی کے تنازع نے پاکستان کی ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس تنازع نے پاکستان کا بحران پیدا نہیں کیا بلکہ پہلے سے موجود کمزوریوں کو ظاہر کیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان درآمدی تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جبکہ برآمدات کا دائرہ محدود اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی کمزور ہیں۔بیرونی دبا کم کرنے کے لیے اعجاز نے میک اِن پاکستان مہم شروع کرنے پر زور دیا تاکہ ملک میں تیار ہونے والی اشیا کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔انہوں نے تجویز دی کہ غیر ضروری درآمدات، خاص طور پر لگژری اشیا جیسے چاکلیٹس، پرفیومز اور کاسمیٹکس پر عارضی پابندی عائد کی جائے جب تک معیشت مستحکم نہیں ہو جاتی۔ بقا کو اولین ترجیح دینی ہوگی، سہولت بعد میں آ سکتی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے توانائی کے تحفظ کے حالیہ اقدامات کو سراہتے ہوئے بھی انہوں نے انہیں عارضی قرار دیا۔ ساختی بحران کو صرف انتظامی فیصلوں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو صرف درآمدی متبادل پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔
اعجاز نے علاقائی تجارت کے فروغ کی بھی تجویز دی اور کہا کہ دور دراز منڈیوں کے بجائے چین، وسطی ایشیا اور پڑوسی ممالک کو برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے۔مشرقِ وسطی کی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ممکنہ رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔ماہرینِ اقتصادیات نے بھی خام تیل کی درآمد کے ذرائع کو متنوع بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ معیشت کو زیادہ مضبوط بنایا جا سکے۔معاشی ماہر اور لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ روسی خام تیل ایک قابلِ عمل متبادل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر پاکستان کو امریکی ڈبلیو ٹی آئی جیسے مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے قلیل مدتی ردعمل کے بجائے پائیدار توانائی بچت کی حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافہ سالانہ پیٹرولیم درآمدی بل میں تقریبا 1.8 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ کرتا ہے۔ڈاکٹر اسلم نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک دوبارہ رسائی مل سکتی ہے اور کاسا-1000 منصوبے کے تحت تاجکستان سے سستی بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک