تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر پاکستان کا بڑھتا ہوا انحصار ایک ممکنہ کمزوری بنتا جا رہا ہے، اور طویل عدم استحکام ملک کی بیرونی مالیات کے ایک اہم ستون کو متاثر کر سکتا ہے۔اگرچہ حالیہ عرصے میں ترسیلاتِ زر نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن کو سہارا دیا ہے، تاہم خدشات بڑھ رہے ہیں کہ خلیجی معیشتوں میں کسی بھی طویل خلل سے اس اہم مالی سہارا کمزور ہو سکتا ہے۔علاقے کے بڑے ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطی میں معاشی اثرات کے پھیلنے کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کے لیے، جو خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں بیرونِ ملک کام کرنے والے کارکنوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، یہ صورتحال لیبر مارکیٹ کے استحکام، کاروباری سرگرمیوں اور مستقبل میں ہجرت کے رجحانات کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک تحقیق کے مطابق خلیجی معیشتوں میں کسی بھی خلل کا براہِ راست اثر مہاجر کارکنوں کی ملازمتوں اور ترسیلاتِ زر پر پڑ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطی پر لیبر برآمدات اور ترسیلاتِ زر کے لیے پاکستان کا زیادہ انحصار ایک ساختی کمزوری ہے۔تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو 2026 میں تقریبا پانچ لاکھ نئے کارکن مشرقِ وسطی نہیں جا سکیں گے، جبکہ اتنی ہی تعداد کو واپس آنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے ملکی لیبر مارکیٹ پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر تک ترسیلاتِ زر میں کمی آ سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے پر پاکستان کا انحصار نہ صرف گہرا بلکہ بہت حد تک مرکوز بھی ہے۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری کے مطابق سعودی عرب 23.5 فیصد ترسیلاتِ زر فراہم کرتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کا حصہ 20.6 فیصد ہے، یوں دونوں کا مجموعی حصہ تقریبا 44 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ لیبر ہجرت اس سے بھی زیادہ مرکوز ہے، جہاں 96 فیصد رجسٹرڈ تارکینِ وطن خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ صرف 2024 میں 62 فیصد کارکن سعودی عرب اور 9 فیصد متحدہ عرب امارات گئے۔سلیری کے مطابق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے افراد عارضی ہجرت اور مضبوط خاندانی روابط کے باعث زیادہ رقوم بھیجتے ہیں، تاہم معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران یہ رجحان کمزور پڑ سکتا ہے۔ان کے مطابق تعمیرات، لاجسٹکس اور خدمات جیسے شعبوں جو پاکستانی کارکنوں کے بڑے آجر ہیں میں سست روی سے ملازمتوں کے مواقع کم ہو سکتے ہیں، کارکنوں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے اور ترسیلاتِ زر کا بہا غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔
چونکہ توقع ہے کہ ترسیلاتِ زر پاکستان کے تجارتی خسارے کا بڑا حصہ پورا کریں گی اور مالی سال 2026 میں جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رکھیں گی، اس لیے معمولی خلل بھی بیرونی توازن پر دبا ئوڈال سکتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کو سست کر سکتا ہے اور کرنسی پر دبا بڑھا سکتا ہے۔پائیڈ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جہانگیر خان کے مطابق خلیجی ترسیلات پر پاکستان کا انحصار گہرا ہے اور قلیل مدت میں اسے کم کرنا مشکل ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2024 میں سعودی عرب نے 7.4 ارب ڈالر (تقریبا 25 فیصد) جبکہ متحدہ عرب امارات نے 5.5 ارب ڈالر (تقریبا 19 فیصد) ترسیلاتِ زر فراہم کیں، اور یہ دونوں مل کر کل ترسیلات کا تقریبا نصف بنتی ہیں۔اگرچہ مالی سال 2024-25 میں ترسیلاتِ زر ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تاہم ان کے مطابق یہ اضافہ علاقائی خطرات سے بڑھتی ہوئی وابستگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 38.5 لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن جی سی سی ممالک میں مقیم ہیں، جو ملک کی بیرونِ ملک افرادی قوت کا نصف سے زیادہ حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر کارکن کم ہنر یا نیم ہنر مند شعبوں جیسے مزدوری اور ڈرائیونگ میں کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ معاشی سست روی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ طویل کشیدگی بھرتیوں کے عمل میں خلل ڈال سکتی ہے، روزگار کے مواقع کم کر سکتی ہے اور سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر تک ترسیلاتِ زر میں کمی کا باعث بن سکتی ہے، جس کے پاکستان کے بیرونی کھاتے کے استحکام پر نمایاں اثرات ہوں گے۔مجموعی طور پر، اگرچہ ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ہیں، لیکن خلیجی عدم استحکام سے جڑے بڑھتے ہوئے خطرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مزید مضبوطی کی ضرورت ہے۔برآمدی منڈیوں میں تنوع، افرادی قوت کی مہارتوں میں بہتری اور روایتی مقامات سے ہٹ کر روزگار کے مواقع بڑھانا پاکستان کی بیرونی کمزوری کو کم کرنے اور طویل مدتی استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک