آئی این پی ویلتھ پی کے

غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبے قومی خزانے پر بوجھ بننے لگے،ویلتھ پاکستان

June 12, 2026

غیر ملکی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبے حکومتِ پاکستان کے مالی وسائل پر بڑھتا ہوا دبا ڈال رہے ہیں کیونکہ بیرونی امداد اور قرضوں سے چلنے والی اسکیموں کے لیے مقامی کرنسی میں درکار حصہ فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کے لیے تیار کردہ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق، ترقیاتی منصوبہ سازوں کو مقامی مالی حصہ فراہم کرنے کی ذمہ داری کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری ترقیاتی پروگرام کے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ اسی مقصد کے لیے مختص ہو رہا ہے۔ مقامی مالی حصہ سے مراد وہ رقم ہے جو حکومت کو غیر ملکی قرضوں اور امداد کے ساتھ اپنے وسائل سے فراہم کرنا ہوتی ہے تاکہ منصوبوں پر عمل درآمد، اراضی کے حصول، محصولات، انتظامی اخراجات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو پورا کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی امور کے شعبے نے مالی سال 2026-27 کے لیے مقامی مالی حصے کی مد میں 832 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کی تھی۔ تاہم 15 مئی 2026 کو کیے گئے نظرثانی عمل کے بعد اس رقم کو کم کرکے 426 ارب روپے کر دیا گیالیکن یہ رقم بھی ترقیاتی وسائل پر ایک بڑا بوجھ تصور کی جا رہی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 1.126 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ قومی شاہراہ این-25، بلوچستان کے خصوصی منصوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، ضم شدہ اضلاع، اتحادی جماعتوں سے متعلق وعدوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے پروگراموں کے لیے رقوم مختص کرنے کے بعد دیگر منصوبوں کے لیے محدود وسائل باقی رہ جاتے ہیں۔ جائزہ رپورٹ کے مطابق مقامی مالی حصے کی نظرثانی شدہ ضرورت پوری کرنے کے بعد متعدد جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل انتہائی کم رہ جائیں گے۔ نقل و حمل کے شعبے میں غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی مجموعی مستقبل کی مالی ذمہ داری 438.1 ارب روپے ہے جبکہ مالی سال 2026-27 میں ان کے لیے 461.4 ارب روپے درکار ہوں گے۔ اسی طرح آبی وسائل کے شعبے میں بیرونی معاونت سے جاری منصوبوں کی مستقبل کی مالی ذمہ داری 278.8 ارب روپے ہے اور آئندہ مالی سال کے دوران ان کے لیے 194.3 ارب روپے کی ضرورت متوقع ہے۔ منصوبہ بندی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ بیرونی مالی معاونت بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ وابستہ مقامی مالی ذمہ داریاں موجودہ مالی گنجائش میں پوری کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں کو مالی سال 2026-27 میں تقریبا 3.377 کھرب روپے درکار ہوں گے، جبکہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے تجویز کردہ بجٹ حد 1.126 کھرب روپے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی مستقبل کی مالی ذمہ داریاں بڑھ کر 10.818 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہیں، جو آنے والے برسوں میں مزید مالی وسائل کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دستاویز کے مطابق سخت مالی حالات میں ترقیاتی اخراجات برقرار رکھنے کے لیے مقامی مالی حصے کی ذمہ داریوں اور بڑھتی ہوئی منصوبہ جاتی ادائیگیوں کا انتظام پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگرچہ غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبے اہم ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل میں مددگار ہیں، تاہم ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مقامی مالی ضروریات سرکاری ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک