شہری منصوبہ بندی میں چین کا پندرہ منٹ کے کمیونٹی دائر زندگی کا تصور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابلِ عمل نمونہ بن سکتا ہے جہاں پائیدار اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ شہری ترقی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔اس ماڈل، جسے شنگھائی سمیت چین کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر نافذ کیا گیا ہے، کا مقصد ایسی مربوط کمیونٹی تشکیل دینا ہے جہاں رہائشی اپنی روزمرہ کی بیشتر ضروریات، مثلا تعلیم، علاج، خریداری، ثقافتی اور تفریحی سہولتوں کے ساتھ عوامی آمدورفت تک، اپنے گھروں سے صرف پندرہ منٹ کی پیدل مسافت میں رسائی حاصل کر سکیں۔اس تصور سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں، سماجی ہم آہنگی، عوامی صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری آتی ہے بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے پیدل چلنے کے قابل، سب کو ساتھ لے کر چلنے والے گروہ کی تشکیل اور جدید معلومات کی بنیاد پر شہری منصوبہ بندی سے زیادہ مضبوط، مثر اور پائیدار شہر بنانے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔امریکہ کی ریاست الینوائے کی جامعہ کے استاد ڈاکٹر فیضان قیوم نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کے اس ماڈل نے سماجی، ماحولیاتی اور معاشی لحاظ سے نمایاں فوائد فراہم کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیدل آمدورفت میں آسانی سے مقامی بازاروں میں خریداروں کی آمد بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں جبکہ گاڑیوں پر انحصار کم ہونے سے لوگوں کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹیں بھی گھٹتی ہیں۔ڈاکٹر فیضان کے مطابق ایسے محلوں میں لوگوں کے درمیان مسلسل میل جول خیالات اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دیتا ہے جس سے جدت، کاروباری مواقع اور مقامی اشیا و خدمات کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور نئے کاروبار قائم کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ طرزِ منصوبہ بندی جسمانی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرکے عوامی صحت بہتر بناتی ہے، گاڑیوں پر انحصار کم کرتی ہے، سماجی روابط مضبوط بناتی ہے، شمولیت کو فروغ دیتی ہے اور شہروں کو زیادہ مضبوط اور پائیدار بناتی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ اندرون لاہور جیسے روایتی علاقے پہلے ہی اس تصور کی بعض خصوصیات رکھتے ہیں جہاں پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد مقامی بازاروں اور مضبوط سماجی روابط کو تقویت دیتی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں اس طرز کے ماڈل کو اپنانے کے لیے محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے تاکہ آبادی کے ارتکاز اور بلند عمارتوں کی تعمیر کے دوران موجودہ آبادی کی بے دخلی، آبادیوں کے انہدام اور شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے بچا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اس ماڈل کی کامیابی صرف پیدل چلنے کے قابل اور مختلف سہولتوں سے آراستہ محلوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے مضبوط برقی انتظامی نظام اور معلومات پر مبنی حکمرانی بھی ناگزیر ہے۔شہری پالیسی کے ماہر ڈاکٹر نوید افتخار نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ریاست معلوماتی نظام کو کس حد تک موثر بناتی ہے تاکہ بہتر فیصلے اور عوامی خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ جدید برقی انتظامی نظام معلومات کو عام کرکے شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ کرتا ہے، بدعنوانی کے امکانات کم کرتا ہے اور عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بناتا ہے۔ڈاکٹر نوید کے مطابق جغرافیائی معلوماتی نقشہ سازی، آزاد معلوماتی نقشوں اور ڈیجیٹل معلوماتی پرتوں جیسے ذرائع شہری انتظام، عوامی خدمات اور شواہد کی بنیاد پر منصوبہ بندی کو مثر بناتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے آبادی، گھروں، زمین کے استعمال اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق درست معلومات حاصل ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید معلوماتی ذرائع عوامی تحفظ بہتر بنانے، وسائل کی مثر تقسیم اور تیزی سے بڑھتی شہری آبادی کی ضروریات کے مطابق بروقت فیصلے کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک