اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 12 جون 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 22 ارب 74 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیجو بیرونی شعبے میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں سے 17 ارب 22 کروڑ ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس جبکہ 5 ارب 52 کروڑ ڈالر تجارتی بینکوں کے پاس موجود تھے۔تازہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی بیرونی مالی پوزیشن میں مسلسل استحکام آ رہا ہے۔ جون 2025 کے اختتام پر مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 27 کروڑ ڈالر تھے جو مارچ 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 21 ارب 33 کروڑ ڈالر اور جون کے وسط تک 22 ارب 74 کروڑ ڈالر ہو گئے۔ اسی عرصے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 14 ارب 51 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب 22 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے۔مرکزی بینک نے ذخائر میں اضافے میں بنیادی کردار ادا کیا اور گزشتہ ایک سال کے دوران اس کے ذخائر میں تقریبا 2 ارب 72 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ پیش رفت زرمبادلہ کی آمد میں بہتری اور بیرونی مالی کھاتوں کے مثر انتظام کی عکاس ہے۔ہفتہ وار بنیادوں پر بھی اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔
یہ ذخائر 15 مئی کو 17 ارب 8 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 22 مئی کو 17 ارب 15 کروڑ ڈالر، 29 مئی کو 17 ارب 19 کروڑ ڈالر اور 5 جون کو 17 ارب 22 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ 12 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھی اسی سطح پر برقرار رہے۔اسی طرح مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر مئی کے وسط میں 22 ارب 59 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 12 جون تک 22 ارب 74 کروڑ ڈالر ہو گئے جو ملک کی زرمبادلہ کی پوزیشن میں مسلسل استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ ذخائر مالی سال 2022-23 کے دوران ریکارڈ کی جانے والی کم ترین سطح کے مقابلے میں نمایاں بحالی کی عکاسی کرتے ہیں جب بیرونی مالی دبا کے باعث مجموعی سیال زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9 ارب 16 کروڑ ڈالر جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہو کر 4 ارب 45 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے۔اس کے بعد سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل بہتری آئی۔
مالی سال 2023-24 کے اختتام پر مجموعی ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچے، مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 19 ارب 27 کروڑ ڈالر ہوئے اور اب بڑھ کر 22 ارب 74 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ پاکستان کی بیرونی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے، روپے کے استحکام میں معاون ثابت ہوتا ہے اور مالیاتی نظام میں غیر ملکی زرِمبادلہ کی مناسب دستیابی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ، زرمبادلہ کی آمدن میں بہتری اور بیرونی مالی کھاتوں کو مستحکم بنانے کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ذخائر میں یہ اضافہ ممکن ہوا ہے۔ تازہ اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بتدریج مضبوط ہو رہے ہیں جس سے بیرونی معاشی دبا سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ اور معیشت کے بیرونی شعبے پر اعتماد مزید مستحکم ہو رہا ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک